نائیڈو، کانگریس کو وینٹی لیٹر پرزندہ رکھنا چاہتے ہیں :راجناتھ سنگھ

مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت اے پی کی جامع ترقی کیلئے پابند عہد ہے تاہم وزیراعلی این چندرا بابو نائیڈو ریاست کو خصوصی درجہ کے نام پر ہنگامہ کھڑا کر رہے ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کے قریب ریڈی پالم میں بی جے پی اے پی یونٹ کے ہیڈ کوارٹرس کا سنگ بنیاد رکھا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خصوصی درجہ کے نام پر دھوکہ دینے کا وزیراعلی چندرابابو پر الزام لگایا ۔انہوں نے کہاکہ وہ یہ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ تلگودیشم این ڈی اے سے کیوں باہر نکل گئی؟کیونکہ مرکز نے کھلے دل سے اے پی کے لئے بہت کچھ کیا ہے ۔چاہے تلگودیشم پارٹی ، این ڈی اے میں رہے یا نہ رہے لیکن مرکزی حکومت اس ریاست کے لئے مدد کرے گی۔انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ کیوں اے پی ، ریاست کو خصوصی درجہ کے لئے مصر ہے ۔14ویں فائنانس کمیشن کے ذریعہ ریاست کو 2,06,910کروڑ روپئے دیئے گئے اور خسارہ گرانٹ کے طورپر 22,130 کروڑروپئے ریاست کو دیئے گئے ہیں۔ ریاست کی تقسیم پر پہلے ہی 4170 کروڑ روپئے اور 3979 کروڑروپئے کی رقم جاری کردی گئی ہے ۔انہوں نے اس موقع پر وزیراعلی چندرابابو نائیڈو پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ وینٹی لیٹر لگاتے ہوئے کانگریس پارٹی کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔سنگھ نے تلگو دیشم سربراہ کو مشورہ دیا کہ جال میں پھنسنے سے پہلے کانگریس پارٹی کی تاریخ پر نظر ڈالیں ۔ کانگریس نہیں بچ پائے گی یو پی اے غیر کارکرد اثاثہ بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا ”کانگریس آخری سانس لے رہی ہے ۔چندرابابو یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ وینٹی لیٹرلگاتے ہوئے اسے زندہ رکھ سکتے ہیں تاہم کانگریس نہیں بچ پائے گی ۔”کانگریس کے ساتھ تلگو دیشم کے امکانی اتحاد کا بالواسطہ طورپر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ’’کانگریس کے جال میں جو بھی پھنس گیا اس کا کام تمام ہوگیا۔‘‘بی جے پی کے بزرگ لیڈر نے کہا کہ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے پاس 2019میں اقتدار پر قبضہ سے مودی کو روکنے کا واحد ایجنڈہ ہے ۔اپوزیشن مودی کی مقبولیت کو ہضم نہیں کرپارہا ہے ۔وزیر اعظم مواضعات ، غریبوں، کسانوں اور سماج کے متوسط طبقات کو اونچا اٹھانے کے لئے بے تکان کام کررہے ہیں ۔نریندر مودی کے سبب ہی دنیا میں ہندوستان کا درجہ نئی اونچائی پر پہنچ چکا ہے اسی لئے اپوزیشن انہیں دوبارہ وزیر اعظم بننے سے روکنا چاہتا ہے ۔سنگھ نے وزیر اعظم پر شخصی حملوں پر صدر کانگریس راہول گاندھی پر نکتہ چینی کی ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا کسی بھی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک انجمن ہیں ۔ہمیں وزیر اعظم کا احترام کرنا چاہیے ۔ہم ان کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرسکتے ہیں لیکن ان پر شخصی حملے نہیں کرنا چاہیے ۔ایسے شخصی حملوں سے اپوزیشن کو کوئی سہرا حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ جمہوریت کے لئے اچھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مخلوط سیاست کے اصول ضروری نہیں ہیں بلکہ بی جے پی کے لئے سیاسی عہد ضروری ہے ۔ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مرکز میں 2014میں مکمل اکثریت کے ساتھ ایک غیر کانگریسی مستحکم حکومت بن پائی ۔بی جے پی کے ذریعہ اتحادی حکومتیں کامیابی کے ساتھ چلائی گئیں ۔انہوں نے 1999سے 2004تک واجپئی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کا حوالہ دیا ۔انہوں نے کہاکہ پی وی نرسمہا راؤ نے 1991سے 1996تک اتحادی حکومت چلائی ۔کانگریس نے نرسمہا راؤ اور لال بہادر شاستری جیسے وزرائے اعظم کو فراموش کردیا لیکن بی جے پی اور ملک نے انہیں فراموش نہیں کیا ۔ہمارے لئے ہمیشہ قومی مفادات سیاسی مفادات سے اونچے ہیں ۔اسی لئے ہم ان وزرائے اعظم کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے ملک کیلئے بہترخدمت کی تھی ۔کانگریس کے ارکان صرف ان وزرائے اعظم کو یاد کرتے ہیں جن کے نام کے آگے نہرو یا گاندھی لگا ہوا ہے ۔اگر کوئی پارٹی قومی مفادات پر سیاسی مفادات کو ترجیح دیتی ہے تو وہ کانگریس ہے ۔

جواب چھوڑیں