پاکستان میں زینب کے قاتل کو پھانسی دے دی گئی

پاکستان نے چہارشنبہ کی صبح زینب انصاری عصمت ریزی وقتل کیس کے خاطی کو پھانسی دے دی۔ 6 سالہ زینت کا کیس جنوری 2018ء کا ہے۔ عمران علی کو زینب کی نعش کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہونے کے بعد گرفتارکیاگیاتھا۔ اسے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سُولی پر لٹکایاگیا۔ زینب کا باپ اور دیگر رشتہ دار اس موقع پر موجود تھے۔ زینب کے باپ امین انصاری نے بی بی سی سے کہا کہ وہ اب مطمئن ہے۔ اس نے میڈیا سے کہا کہ میں نے اپنی بچی کے قاتل کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ پھانسی کے بعد اس کی نعش کو نصف گھنٹہ لٹکارہنے دیاگیا۔ شہر قصور میں اس کیس نے برہمی کی لہر دوڑادی تھی اور پاکستان بھر میں احتجاج ہوا تھا۔ زینب 4جنوری کو لاپتہ ہوئی تھی اور 5 دن بعد اس کی نعش ملی تھی۔ امین انصاری نے کہا کہ میری بچی زندہ ہوتی تو آج 7 سال 2ماہ کی ہوتی۔ امین انصاری نے افسوس کیا کہ حکام نے سولی کا منظر ٹی وی پر نہیں دکھایا۔ زینب کے باپ نے عمران علی کو برسرِ عام پھانسی دینے لاہورہائیکورٹ سے درخواست کی تھی جوخارج ہوگئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قصور میں گذشتہ 2برس میں بچیوں کے قتل کے کئی واقعات ہوئے لیکن زینب کی ہلاکت پر برہمی کی لہر دوڑگئی۔ پولیس کی نااہلی کے خلاف احتجاج ہوا۔ جھڑپوں میں 2افراد ہلاک ہوئے۔ زینب کے خاندان نے کہاتھا کہ پولیس نے بچی کے لاپتہ ہونے کے 5 دن تک کوئی کاروائی نہیں کی۔ زینب آخری مرتبہ کہاں تھی اس کا سی سی ٹی وی فوٹیج رشتہ داروں نے نکالا پولیس نے نہیں۔ فوٹیج میں اسے ایک شخص لے جاتا دکھائی دیاتھا۔ سوشل میڈیا پر # جسٹس فار زینب کی باڑھ آگئی تھی۔ 23جنوری کو 24 سالہ عمران علی کو ڈی این اے ملاتے ہوئے گرفتارکیاگیاتھا۔ اسے سزائے موت سنائی گئی۔ اس کی درخواست رحم اکتوبر میں صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے مسترد کردی ۔

جواب چھوڑیں