گولی چلاؤگے تو گلدستہ نہیں ملے گا : ستیہ پال ملک

گورنر جموں و کشمیر ستیہ پال ملک نے دہشت گردی پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب عسکریت پسندوں کے زیادہ دن باقی نہیں بچے ہیں ۔ اگست سے لے کر اب تک زائد از 40 عسکریت پسند ہلاک ہوچکے ہیں اور اگر وہ گولیاں برسائیں تو انہیں گلدستوں کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ستیہ پال ملک نے ریاست کی صورتِ حال کو ’’سنگین نہیں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنگباری کے واقعات کم ہوگئے ہیں اور عسکریت پسندوں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی بھی کم ہوچکی ہے ۔ ستیہ پال ملک نے منگل کی شب یہاں پی ٹی آئی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ یہ بہت سیدھی بات ہے ۔ ’’گولی چلاؤگے تو گولی چلے گی ، کوئی گلدستہ تو ملے گا نہیں۔‘‘ انہوں نے جاریہ سال 23 اگست کو گورنر جموں و کشمیر کے عہدہ کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب عسکریت پسندوں کے زیادہ دن باقی نہیں بچے ہیں ، صورتِ حال سنگین نہیں ہے ۔ میرے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے تقریباً 40 عسکریت پسند ہلاک ہوچکے ہیں ، سنگباری کے واقعات کم ہوگئے ہیں ،مقامی نوجوانوں کی عسکریت پسندوں میں شمولیت کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ اس محاذ پر میں مطمئن ہوں ، کوئی تشویشناک صورتِ حال نہیں ۔ ملک نے بتایا کہ ان کی یہ رائے صرف سرکاری معلومات پر مبنی نہیں ، بلکہ عام افراد کے بیانات پر بھی مبنی ہے ، جو انہیں فراہم کیے گئے ہیں۔ گورنر نے مزید کہا کہ انہوں نے نوجوانوں کے کئی گروپس سے ملاقات کی ہے اور ان کے مسائل کی سماعت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے بات چیت کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ 13 تا 20 سال عمر کے نوجوانوں کے مسائل کی یکسوئی کی جائے ۔ اس عمر کے نوجوانوں کے مسائل کو پہلے حل کرنے کی ضرورت ہے، کیوںکہ یہ مایوس اور جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ ملک کے مطابق نوجوان نہ صرف نئی دہلی سے ، بلکہ پاکستان ، مقامی سیاسی گروپس اور حریت سے بھی ناراض ہیں ۔ انہیں امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی ۔ اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے اور ان کی اُمنگوں کے مطابق کام کیا جائے ، تاکہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ مرکز ان کا مخالف نہیں ۔ منان وانی جیسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے وادی میں ہتھیار اٹھا لینے کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ اس سلسلہ میں غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کئی تعلیم یافتہ افراد دیگر برے کام کرتے ہیں ۔ منان وانی گمراہ ہوچکا تھا ۔ میں مجبور ہوں ۔ کئی نوجوان اس عظیم ملک کے بارے میں پوری معلومات نہ رکھنے کے سبب گمراہ ہوئے ہیں ۔ آخر کتنے عسکریت پسند ہوںگے؟ مبالغہ آرائی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تعداد 400 کے قریب ہوگی ۔ ہندوستان جیسے ملک کے لیے ان 400 افراد سے نجات حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ، بہرحال ہماری کوشش دہشت گردوں کو نہیں ، بلکہ دہشت گردی کو ختم کرنا ہے ۔

جواب چھوڑیں