انتخابات کے پیش نظر رام مندر مسئلہ اٹھایا جارہا ہے: توگڑیہ

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون سازی کا مطالبہ کئے جانے کے بعد شعلہ بیاں ہندو قائد پروین توگڑیہ نے آج سوال کیا کہ بی جے پی کے گذشتہ ساڑھے چار سالہ دورِ اقتدار میں ایسا قانون کیوں وضع نہیں کیا گیا۔ توگڑیہ جنہوں نے جاریہ سال کے اوائل میں وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) چھوڑدی تھی‘ الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس اب یہ مسئلہ محض اس لئے اٹھارہی ہے کیونکہ انتخابات قریب ہیں اور بی جے پی حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ توگڑیہ نے جو اَب انتر راشٹریہ ہندو پریشد کے صدر ہیں‘ اپنے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ ساڑھے چار سال کے دوران رام مندر کی تعمیر میں کیوں تاخیر کی گئی جبکہ بی جے پی کو پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت حاصل ہے۔ مرکز کی بی جے پی زیرقیادت حکومت کی تمام محاذوں پر ناکامی اور کئی ریاستوں کے علاوہ 2019میں پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر رام مندر کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے۔ بی جے پی کو آر ایس ایس کی پارٹی قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستوں میں اس کی حکومتیں نام نہاد ترقی کے تمام وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہی ہیں۔ اس کی بے تکی پالیسیوں کی وجہ سے سماج کے کئی طبقات ناراض ہیں لہٰذا اب اس پارٹی اور اس کی مادر تنظیم کو بھگوان رام یاد آرہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قبل ازیں جو لوگ رام مندر کی تعمیر پر زور دے رہے تھے انہیں خاموش رہنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ آر ایس ایس نے اکتوبر 2017 میں بھوپال میں ایک خصوصی اجلاس طلب کیا تھا جس میں ہمیں مدعو کیا گیا تھا۔ ہم سے واضح طورپر کہا گیا تھا کہ پارلیمنٹ میں رام مندر قانون کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کریں۔ اس قانون کا مطالبہ کرنے پر مجھے اور رام (مندر) کے دیگر حامیوں کو اسی تنظیم نے سزا دی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکز کو رام مندر کی تعمیر کے لئے فوری ایک آرڈیننس لانا چاہئے۔

جواب چھوڑیں