جمال خشوگی قتل کیس ‘ترکی سے آڈیوحاصل کرنے ٹرمپ کا اعلان

امریکہ نے ترکی سے مطالبہ کیاہے کہ وہ صحافی جمال خشوگی کے مشتبہ قتل کا آڈیو ریکارڈ فراہم کریں ۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ناراض سعودی صحافی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں مکمل رپورٹ طلب کی ہے ۔ شبہ ہے کہ 60 سالہ خشوگی کو استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں قتل کردیاگیا ۔ اس واقعہ نے عالمی سطح پر برہمی کی لہر دوڑا دی ۔ امریکہ میں یہ صورتحال اور بھی زیادہ شدید رہی وہ قانونی ور پر مستقل شہری تھے اور واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کیا کرتے تھے ۔ قبل ازیں خشوگی استنبول کے قونصل خانہ داخل ہونے کے بعد 2اکتوبر کو لاپتہ ہوگئے تھے ۔ ترک عہدیداروں کو شبہ ہے کہ خشوگی کا سعودی عہدیداروں نے اغوا کرتے ہوئے انہیں قتل کردیا لیکن ریاض اس بات پر بضد ہے کہ صحافی جو عام طور پر شاہ سلمان کے ناقد کی حیثیت سے مشہور ہیں وہ قونصل خانہ سے روانہ ہوئے تھے لہذا قتل کادعوی بے بنیاد ہے ۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاوز میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ترکی سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اس آڈیو کو روانہ جس سے خشوگی کے مبینہ وحشیانہ قتل کا سراغ فراہم ہوتاہے ۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے ترکی ذرائع سے دستیاب آڈیو کے متن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آڈیو میں مبینہ وحشیانہ قتل کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ۔ مائیک پومپیو کے سعودی عرب اور ترکی سے لوٹنے کے بعد ان کے ساتھ اپنی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں تاحال اس کایقین نہیں کہ آڈیو موجود ہوگا ۔ شاید موجود ہو ۔ انہوں نے بتایا کہ مائیک پومپیو کے لوٹنے کے بعد انہیں اس کی مکمل رپورٹ مل جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اولین سوال وہ پومپیو سے اسی بارے میں کریں گے ۔ سعودی عرب اور ترکی سے واپسی کے دوران پومپیو نے آڈیو ٹیپ کی موجودگی پر کچھ کہنے سے انکار کردیا ۔ پومپیو سے سوال کیاگیاتھا کہ کیا انہوں نے حقیقی قتل کامبینہ آڈیو سناہے یا اسے طلب کیاہے ۔ پومپیو نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہناہے ۔ انہوں نے پر زور انداز میں بتایا کہ خشوگی لاپتہ ہوگیا اور سعودی حکومت نے تحقیقات کاآغاز کردیاہے ۔ پومپیو نے بتایا کہ سعدی اپنی تحقیقات کرے گا ۔ وہ جانتے ہیں کہ تمام لوگ ایسے ہی سوالات کریں گے لہذا وہ اپنے بیانات میں یکسانیت کے خواہاں ہیں ۔ ہم انہیں ‘اس بات کی گنجائش دیناچاہتے ہیں کہ اس واقعہ کی اپنی تحقیقات مکمل کرلیں اور جب وہ رپورٹ جاری کرے تو ہم پوری طرح اس پر فیصلہ کریں گے اور بعدازاں اس سلسلہ میں انہیں جوابدہی کاذمہ دار بنائیں گے ۔ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پومپیو سے یہ دریافت کریں گے کہ وہاں کیاہواہے ۔ پومپیو ترکی گئے تھے اور انہوں نے یہ تمام صورتحال کاجائزہ لیا ۔ لیکن انہوں نے بہت سے وقت ولیعہد کے ساتھ گذارا ‘لہذا ان کے پاس مکمل رپورٹ ہوگی ۔ وہ قطعی طور پر کوئی بات نہیں چھپارہے ہیں ۔ انہو ںنے ان الزامات کی تردید کردی کہ وہ سعودی حکومت سے نرم رویہ اختیار کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مشرقی وسطی میں سعودی عرب ہمارا بہت ہی اہم حلیف رہاہے ہم ایران کو روک رہے ہیں ۔ ہم نے ایک بڑا قدم اٹھایاجبکہ اس مضحکہ خیز معاہدہ کو ختم کردیا جسے سابق نظم و نسق نے انجام دیاتھا ۔ اوریہ معاملت ایران کے ساتھ تھی جس کی مالیت 150 بلین ڈالر تھی اور نقد 1.8 بلین ڈالر تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب ہمارا حلیف ہے ۔ مشرقی وسطی میں ہمارے دوسرے بھی بہت ہی اچھے حلیف موجود ہیں ۔ اگر آپ سعودی عرب کو دیکھیں تو ایک بڑا حلیف ثابت ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ نہ صرف فوجی ساز و سامان بلکہ دیگر اشیا کا بہت بڑا خریدا ر بھی ہے ۔ ٹرمپ نے بتایا کہ جس وقت وہ وہاں تھے تب انہوں نے 450 بلین ڈالر مالیاتی اشیاء کی خریدی کاوعدہ کیاتھا اور ساتھ ہی ساتھ 110 بلین ڈالر فوجی ساز و سامان خریدنے کا بھی عہد کیاتھا ۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی خریداری ہے ۔شاید دنیا کی تاریخ میں بھی ایسا ہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ باور کرتے ہیں کہ امریکہ کو کبھی بھی اتنا بڑا آرڈر نہیں ملاہے ۔ تاہم قانون ساز بدستور سعودی عرب کے خلاف کاروائی کامطالبہ کررہے ہیں ۔

جواب چھوڑیں