جمال خشوگی کی گمشدگی میں محمد بن سلمان کارول۔ جلاوطن پرنس خالدکابیان

سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا ہے کہ جمال خشوگی کی گمشدگی کے پیچھے ولیعہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمران کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے قربانی کا کوئی بکرا ڈھونڈ ہی لیں گے۔سعودی عرب کے شاہی خاندان کے اس رکن نے، جو جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جانے کے بعد دو اکتوبر سے لاپتہ سعودی صحافی اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار خشوگی کی گمشدگی اور ان کے مشتبہ قتل کے پیچھے شاہ سلمان کے بیٹے اور ملکی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے۔پرنس خالد کے مطابق ریاض میں ملکی قیادت اس مبینہ قتل کے سلسلے میں خود کو کسی بھی طرح کی ’ناخوشگوار صورت حال‘ سے بچانے کے لیے ’کوئی نہ کوئی کالی بھیڑ‘ یا ’قربانی کا کوئی بکرا‘ تلاش کر ہی لے گی، جس پر جمال خشوگی کی گمشدگی اور ہلاکت کا الزام دھرا جا سکے۔خشوگی کی گمشدگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جلاوطن سعودی پرنس خالد بن فرحان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں جانتا ہوں کہ جمال خشوگی کے سعودی شاہی خاندان کے ارکان سے تعلقات تھے اور وہ اس طرز عمل کے مخالف تھے کہ انہیں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کے طور پر پیش کیا جائے۔ وہ شاہی خاندان کے لیے کوئی سیاسی خطرہ بھی بالکل نہیں تھے۔ وہ تو اپنی تنقید میں بھی محتاط رہتے تھے۔ وہ ریاض میں حکمرانوں کے لیے کوئی براہ راست خطرہ تو قطعی نہیں تھے۔‘‘

جواب چھوڑیں