خشوگی کی گمشدگی میں مشتبہ طور پر ملوث شخص‘ ریاض میں کارحادثہ میں ہلاک

سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی میں مشتبہ طور پر ملوث ایک شخص مشعل سعدالبوستانی (31 سالہ) ‘ریاض میں ایک ’’مشتبہ کارحادثہ‘‘ میں ہلاک ہوگیا۔ البوستانی‘ سعودی رائل ایرفورس کا لیفٹننٹ تھا اور ان 15مشتبہ افراد میں شامل تھا جو گذشتہ 2اکتوبر کو ترکی پہنچے تھے اور وہاں سے واپس ہوئے تھے۔ اس واپسی سے قبل وہ استنبول میں سعودی سفارتخانہ گئے تھے جہاں خشوگی کو آخری مرتبہ دیکھاگیاتھا۔ روزنامہ ’حریت ڈیلی نیوز‘ نے ترکی روزنامہ ’ینی سفاک کے حوالہ سے یہ اطلاع دی۔ مذکورہ اخبار نے بتایاکہ ریاض میں ہوئے مذکورہ ٹریفک حادثہ کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور خشوگی کے ’قتل‘ میں بوستانی کا رول ہنوز واضح نہیں ہوا۔ حریت ڈیلی نیوز نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ استنبول میں سعودی عرب کے قونصل محمد العطیبی کی ’عنقریب ہلاکت‘ ہوسکتی ہے کیونکہ ولیعہد محمد بن سلمان ثبوت وشواہد سے نجات پانے کچھ بھی کریں گے‘‘۔ ترکی اخبار نے کل خبردی تھی کہ ایک ریکارڈنگ میں العطیبی کے آواز سنی جاسکتی تھی۔ ترکی کے حکام کا خیال ہے کہ مذکورہ ریکارڈنگ سعودی قونصل خانہ میں خشوگی کی پوچھ گچھ سے متعلق تھیں۔ العطیبی گذشتہ منگل کو سعودی عرب واپس پہنچے جبکہ پولیس نے بعد میں ان کے قیام گاہ کی تلاشی لی۔ اسی دوران ایک اور ترکی روزنامہ صباح نے ایک اور مشتبہ شخص کے سیکیوریٹی کیمرہ فوٹیج سے حاصل کردہ تصاویر جاری کی ہیں۔

جواب چھوڑیں