رام مندرکی تعمیر کیلئے قانون سازی سے آپ کو کون روک رہا ہے۔ بھاگوت کے مطالبہ پر حیدرآباد کے ایم پی اسدالدین اویسی کا ردعمل

ایودھیا میں ایک بڑے رام مندرکی تعمیر کیلئے قانون سازی سے متعلق آرایس ایس لیڈرموہن بھاگوت کے مطالبہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدرکل ہند مجلس اتحاد المسلمین اسدالدین اویسی(ایم پی) نے کہا کہ ’’اِس (قانون) کو لاؤ ‘آپ کو اور آپ کی حکومت کوقانون سازی سے کون روک رہا ہے؟ ‘‘ انہوں نے کہا کہ بھاگوت کا بیان اِس بات کی واضح مثال ہے کہ ایک قوم کو مطلق العنانیت میں تبدیل کردیاگیا ہے۔ اویسی نے یہاں اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’آرایس ایس اور بی جے پی ‘مطلق العنانیت پر یقین رکھتے ہیں اور تکثیری نظام یا قانون کی حکمرانی پر یقین نہیں رکھتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صدر آرایس ایس ‘ قانون سے لاعلم ہیں۔ سپریم کورٹ نے اسماعیل فاروقی (کیس) فیصلہ میں یہ واضح کردیا ہے کہ حکومت، کسی مخصوص مذہب کیلئے قانون نہیں بناسکتی کیونکہ ایسا اقدام دستورکے بنیادی ڈھانچہ اور دستور کی دفعہ 14کے مغائر ہے۔ ’’یہ حکومت اور آرایس ایس‘ مطلق العنان کی علامات ہیں اور قانون کو نہیں مانتی ہیں۔ وہ‘ جوچاہیں کرناچاہتے ہیں‘‘۔ بھاگوت کے اس بیان پر کہ بعض بنیادپرست عناصر مندر کی تعمیر کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں، اویسی نے کہا کہ فاشست لوگ جو مطلق العنانی کی آئیڈیالوجی پر یقین رکھتے ہیں، خود کوخوبیوں کا مجموعہ قراردیتے ہیں اور دوسروں کو قوم دشمن سمجھتے ہیں‘‘۔ ان اطلاعات پر کہ آرایس ایس نے 2019ء کے انتخابات میں بی جے پی کیلئے مہم چلانے کا منصوبہ بنایا ہے‘ اویسی نے کہا کہ آرایس ایس ہمیشہ ہی بی جے پی کی مدد کرتی رہی ہے اور سارا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی کا اصل چہرہ آرایس ایس ہے۔ اویسی نے مزید کہا کہ ’’ہمارے ملک کے وزیراعظم خود سوئم سیوک ہیں۔ آرایس ایس یہ بھولتی رہتی ہے کہ وہ‘ سیاست میں پیر نہیں جماسکتی کیونکہ اِس تنظیم پر سے امتناع اٹھانے کی ایک شرط یہ تھی کہ وہ‘ سیاست میں حصہ نہیں لے گی‘ لیکن وہ ایسا کرتی آرہی ہے‘‘۔

جواب چھوڑیں