رام مندر کی تعمیر کیلئے قانون سازی کی جائے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا وجئے دشمی لکچر

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے آئندہ سال مقرر لوک سبھا انتخابات سے قبل پسندیدہ بھگوا ایجنڈہ اٹھاتے ہوئے آج ایودھیا میں جلد ازجلد عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کے لئے ایک قانون وضع کرنے پر زور دیا اور بنیاد پسند طاقتوں پر اس عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے 93 ویں یوم تاسیس کے موقع پر وجئے دشمی لکچر دیتے ہوئے انہوں نے شبری ملا مندر میں ہر عمر کی خواتین کو داخلہ کی اجازت دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے داخلی اور بیرونی سیکوریٹی مسائل کا بھی تذکرہ کیا۔ بھاگوت نے کہا کہ رام جنم بھومی پر جلد ازجلد رام مندر تعمیر کیا جانا چاہئے۔ اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ فیصلہ جلد ازجلد لیا جانا چاہئے۔ ہمارا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک قانون لاتے ہوئے رام مندر تعمیر کرنا چاہئے۔ سادھو سنت اس ضمن میں جو بھی اقدامات کریں ہم ان کا ساتھ دیں گے۔ بھگوان رام کا کسی ایک برادری سے تعلق نہیں۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے نہیں بلکہ ہندوستان کی شبیہ ہیں۔ ان کا مندر بہرصورت تعمیر کیا جانا چاہئے۔ حکومت کو اس ضمن میں قانون سازی کرنی چاہئے۔ بھاگوت کا یہ تبصرہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے پس منظر میں کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ 29 اکتوبر سے ایودھیا ملکیت تنازعہ کی سماعت کرے گی۔ وی ایچ پی نے مندر کی تعمیر کے لئے ایک بڑی عوامی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ اگرچہ کہ ہر قسم کے شواہد موجود ہیں اور اس بات کی توثیق ہوچکی ہے کہ اُس مقام پر جہاں 6 دسمبر 1992 کو منہدم کئے جانے تک 16 ویں صدی کی بابری مسجد قائم تھی‘ ایک مندر موجود تھا اس کے باوجود مندر کی تعمیر کے لئے ہنوز اراضی الاٹ نہیں کی گئی ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ اس میں تاخیر پر تاخیر ہوتی جارہی ہے۔آخر اس میں کتنی تاخیر کی جائے گی۔ ہندو سماج طویل عرصہ سے مندر کی تعمیر کا منتظر ہے۔ عوام کو اس کے بارے میں حقائق کا پتہ ہے لیکن کچھ لوگ اس پر سیاست کررہے ہیں اور اس عمل میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر سیاست نہ ہوتی تو بہت پہلے مندر تعمیر ہوچکا ہوتا۔ یہ سبھی کے تعاون اور تال میل کے ساتھ تعمیر کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی ایک رولنگ کو روکنے چند عناصر نے واضح طورپر ایک منصوبہ تیار کیا تھا۔ رام مندر کی تعمیر سے ملک میں خیرسگالی اور یکجہتی کے ماحول کی راہ ہموار ہوگی۔ بعض بنیاد پرست عناصر قومی مفاد کے اس معاملہ میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ ان میں فرقہ وارانہ سیاست کرنے والی طاقتیں بھی شامل ہیں۔ ان ریشہ دوانیوں کے باوجود اراضی کی ملکیت سے متعلق فیصلہ جلد کیا جانا چاہئے اور حکومت کو مناسب اور درکار قانون کے ذریعہ عظیم الشان رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کرنا چاہئے۔ بھاگوت نے قومی سیکوریٹی کے بارے میں کہا کہ ہندوستان کو دفاعی پیداوار کے شعبہ میں خودمکتفی بننا چاہئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسے ٹکنالوجی حاصل کرنی چاہئے اور اندرون ملک پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہئے۔ سرحدی سیکوریٹی اور داخلی سلامتی ایسے معاملات ہیں جن پر ترجیحی طورپر غور کیا جانا چاہئے۔ یہ ملک کی خوشحالی اور ترقی کی گنجائش اور مواقع فراہم کرتے ہیں۔ حکومت اور مسلح افواج نے تمام ممالک بشمول پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور خوشگوار تعلقات قائم رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن مضبوط رہنا ‘ ہندوستان کی صلاحیتوں کا دانشمندی کے ساتھ استعمال کرنا اور ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات کرنا بھی ضروری ہے۔ کیرالا میں شبری ملا مندر مسئلہ پر احتجاج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں مسئلہ کی نوعیت اور روایات پر غور نہیں کیا گیا جنہیں سماج قبول کرتا ہے۔ تمام پہلوؤں پر غور کئے بغیر صادر کئے جانے والے فیصلے نہ تو روبہ عمل لائے جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے بدلتے وقت اور موقف کے مطابق نیا سماجی نظام تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ اس فیصلہ کا مقصد صنفی مساوات پیدا کرنا تھا جو ٹھیک ہے لیکن (روایات پر عمل کرنے والوں کے ساتھ) بات چیت کرنی چاہئے تھی۔ کروڑوں بھکتوں کے عقیدہ کے بارے میں غور نہیں کیا گیا۔ بھاگوت نے اپنی 90 منٹ طویل تقریر میں شہری ماؤازم کے خلاف انتباہ دیا اور الزام عائد کیا کہ یہ جھوٹ کی تشہیر کررہا ہے اور سماج میں نفرت پیدا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہادی اور دہشت گرد عناصر کا حقیقی وجود ایسے تمام معاملات میں مشترکہ عنصر ہوتا ہے لہٰذا یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک طاقتوں کے ساتھ سازباز کرتے ہوئے ایک بڑی ناپاک سازش تیار کی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں