ریاست تلنگانہ میں سوائن فلو کے واقعات میں اضافہ

ریاست تلنگانہ میں سوائن فلو (ایچ ون این ون) اور ایچ تھری این ٹو واپس آگیا ہے ۔ حیدرآباد کے محکمہ صحت سے وابستہ ماہرین کے مطابق ان دونوں انفلوئنزاکی علامات یکساں ہوتی ہیں۔امکان ہے کہ یہ فلو دسمبراورجنوری تک برقرار رہے گا۔اسی بنا پر مختلف خاندانوں اور انفرادی طورپر لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔تلنگانہ کے مقابلے رواں برس یہ فلو راجستھان ، گجرات ،مہاراشٹر میں کہیں زیادہ سرگرم دیکھا گیا ہے ۔ تلنگانہ کی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق جاریہ سال ماہ جنوری سے سات اکتوبر تک تلنگانہ میں سوائن فلو کے 99معاملات درج کئے گئے ہیں جن میں چھ افراد کی موت ہوگئی ۔ نیشنل سنٹر فارڈیسزسرویلنس کنٹرول اور انٹی گریٹیڈ ڈیسزسرویلنس پروگرام کے مطابق سوائن فلو سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ بچوں ، ضعیف افراد،حاملہ خواتین اور ہیلت ورکرس میں ہوتا ہے ۔شہرحیدرآبادکے فیور اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ پی شنکر نے کہاکہ عوام کو چاہئے کہ وہ بہر صورت احتیاطی اقدامات کو یقینی بنائیں۔انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ وہ شدید بخار’ چھینک’کھانسی اور بدن درد جیسی سوائن فلو کی علامات پر اسپتال سے رجوع ہوں۔ شہری’’پرہجوم مقامات میں جانے سے گریز کریں’ وقفہ وقفہ سے اپنے ہاتھ دھوتے رہیں‘‘ہاتھ ملانے سے گریز کریں’ چھینک یا کھانسی آنے پر اپنے منہ پر ہاتھ رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے اسپتالوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سوائن فلو کے مشتبہ مریضوں کو علحدہ رکھنے کے اقدامات کریں۔ ہومیو پتھی ڈاکٹرس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہومیوپتھی ڈاکٹرس کی نگرانی میں احتیاطی اقدام کے طور پر ہومیوپتھی دوائیں حاصل کریں۔

جواب چھوڑیں