سابق ایم ایل اے یادگیری ریڈی کے پاس ذاتی مکان تک نہیں

سیاسی لیڈران بالخصوص ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کے تعلق سے عام رائے یہ پائی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ کسی بھی ایوان کے لئے منتخب ہونے والے لیڈراتنی دولت کما لیتے ہیں کہ ان کی کئی نسلیں اس دولت سے راج کر سکتی ہیں لیکن اس ملک میں چند ایسے عوامی منتخبہ نمائندے بھی ہیں جنہوں نے برسوں اسمبلی اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کی لیکن کوئی دولت نہیں کمائی۔ایسے ہی ایک فرض شناس اور ایماندار رکن اسمبلی یادگیری ریڈی ہیں جنھوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ایک مکان بھی تعمیر نہیں کیا۔یادگیری ریڈی رامنا پیٹ، ضلع نلگنڈ ہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے پاس اپنا ذاتی گھر اور کار تک نہیں ہے ۔وہ حیدرآباد کے چمپا پیٹ علاقے میں کرایہ کے دو کمروں کے مکان میں رہتے ہیں۔ آج کے اس دور میں ریڈی جسے رہنما ہیں جو تین بار رکن اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے لیکن ان کے پاس اپنا ذاتی گھر اور کار تک نہیں ہے ۔وہ رامنا پیٹ حلقہ اسمبلی کے لگا تار تین مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں ۔وہ سی پی آئی کے ٹکٹ پر حلقہ اسمبلی رامنا پیٹ سے 1985 ۔ 1989 اور1994 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔پہلی مرتبہ بطور رکنِ اسمبلی انھیں 12 ہزار روپئے ماہانہ مشاہرہ ملا کرتا تھا جو بڑھتے ہوئے 1994میں 15 ہزار ہوگیا ۔ انہیں دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔انہوں نے اپنے تمام بچوں کو سرکاری اسکول میں تعلیم دلوائی۔ انھوں نے اپنی ایک لڑکی کو سرکاری ہاسٹل میں شریک کروایا۔ اسکے علاؤہ انھوں نے اپنے بچوں کو سیاست سے دور رکھا ۔ان کے بڑے فرزند راج شیکھر ریڈی وکیل اور دوسرے فرزند راج موہن ریڈی صحافی ہیں۔ا ن کا شمار فرض شناس دیانت دار اور اصول پسند سیاسی رہنماوں میں ہوتا ہے ۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے حیدرآباد کے چمپا پیٹ علاقے میں ماہانہ پانچ ہزار روپئے دے کر ایک کرایہ کے مکان میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مقیم ہیں ۔

جواب چھوڑیں