سشما سوراج اور اکبر کی ملاقات سے لاعلمی کا اظہار: رویش کمار

وزارتِ امورخارجہ کے ترجمان رویش کمار نے آج بتایاکہ وہ‘ بیرونی دورہ سے مسٹر ایم جے اکبر کی واپسی کے بعد ‘قبل ازیں ان پر لگائے گئے الزامات پر اُن کے (اکبر کے) اور وزیرخارجہ سشماسوراج کے درمیان کسی مصرحہ ملاقات سے واقف نہیں ہیں۔ مسٹر اکبر نے بیرونی دورہ سے اپنی واپسی کے بعد گذشتہ پیر اور منگل کو بحیثیت جونیروزیرخارجہ ‘سرکاری اجلاسوں میں شرکت کی۔ مذکورہ مسئلہ پر مسٹرکمار کا یہ پہلا تبصرہ تھا۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ سابق صحافی ایم جے اکبر نے ان کے خلاف کئی خاتون صحافیوں کے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے کل ہی اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیاتھا۔ ان کے خلاف جب جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے گئے تھے ‘وہ‘ آفریقہ کے دورہ پر تھے۔ گذشتہ اتوار کو بیرونی دورہ سے واپسی کے دو ہی گھنٹہ بعد انہوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے مذکورہ الزامات کی تردید کردی‘ تاہم ان پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظرانہوں نے کل اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ مزید خواتین نے اکبر کی مبینہ جنسی ہراسانی کے بارے میں بیانات دئیے ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا استعفیٰ کا فیصلہ ‘خود مسٹر اکبر کا ہے یا سشماسوراج یا وزیراعظم مودی نے اکبر کے استعفیٰ کیلئے کوئی مکتوب انہیں بھیجاتھا۔ رویش کمار نے صرف اتنا کہا کہ ’’ وزیرموصوف نے استعفیٰ دیا ہے اور ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔ اس کے آگے مجھے اور کچھ کہنا نہیں ہے۔ جہاں تک مذکورہ میٹنگ کا تعلق ہے، میں آپ سے(صحافیوں سے) صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ چونکہ وہ(اکبر) ہندوستان واپس ہوچکے تھے، وزارتِ خارجہ کے بعض عہدیداروں نے گذشتہ پیر اور منگل کو ملاقاتیں کیں۔ وہ‘ ان ملاقاتوں میں شریک تھے لیکن اس مسئلہ پر وزیرخارجہ اور منسٹر آف اسٹیٹ برائے امورخارجہ کے درمیان کسی مصرحہ میٹنگ سے میں واقف نہیں ہوں‘‘۔

جواب چھوڑیں