صحافیوں کے ٹویٹر پیامات سے ایم جے اکبر کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان۔ وکیل کا عدالت میں بیان

ایک عدالت نے آج یہاں خاتون صحافی پریہ رمانی کے خلاف سابق وزیر ایم جے اکبر کی فوجداری ہتک عزت کی درخواست قبول کرلی اور کہا کہ وہ 31 اکتوبر کو بی جے پی قائد کا بیان ریکارڈ کرے گی۔ ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ سمر وشال نے کہا کہ میں تعزیرات ہند کی دفعہ 500 (ہتک عزت کے لئے سزا) کے تحت اس جرم کا نوٹ لیتا ہوں۔ عدالت نے اکبر کی وکیل گیتا لتھرا کے بیان کی سماعت کے بعد یہ بات کہی جنہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ ہتک عزت کی درخواست پر غور کرے اور خاتون صحافی کے خلاف کارروائی کرے۔ عدالت نے ہتک عزت درخواست کا نوٹ لینے کے بعد اس معاملہ کی سماعت 31 اکتوبر کو مقرر کی جب مدعی اور اس کے گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جائیں گے۔ اکبر نے 2 سینئر خاتون صحافیوں ‘ اخبار ’’دی سنڈے گارجین‘‘ کی ایڈیٹر جویتا باسو اور صحافی وینو سندل کے علاوہ دیگر 4 کو اپنے گواہ بنایا ہے تاکہ رمانی کے خلاف ہتک عزت کے الزامات ثابت کرسکیں۔ واضح رہے کہ پریہ رمانی وہ پہلی خاتون صحافی ہیں جنہوںنے ایم جے اکبر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کے بعد کئی خاتون صحافیو ںنے مماثل الزامات عائد کئے۔ اکبر نے اپنے وکیل کے ذریعہ عدالت کو بتایا کہ رمانی کے ہتک آمیز بیانات کے سبب ان کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے اور عوام کی نظروں میں ان کی عزت گھٹ گئی ہے۔ لتھرا نے عدالت کو بتایا کہ پریہ رمانی کے متنازعہ ٹویٹر پیامات اور سوشل میڈیا پر مماثل پوسٹس کی وجہ سے ان (اکبر) کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جو انہوں نے زائداز 40سال میں قائم کی تھی۔ وکیل نے کہا کہ بین الاقوامی اور قومی میڈیا میں شائع مضامین میں ان ہتک آمیز ٹویٹر پیامات کا حوالہ دیا گیا ۔ پریہ رمانی ‘ اکبر کے خلاف جب تک کچھ ثابت نہیں کرتیں یہ پیامات ہتک آمیز ہی رہیں گے۔ اکبر نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ محرکات پر مبنی انداز میں اور کسی ایجنڈہ کی تکمیل کے لئے ان کے خلاف جھوٹے بیانات گشت کرائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کل مملکتی وزیر خارجہ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ وہ شخصی حیثیت میں قانونی لڑائی لڑیں گے۔

جواب چھوڑیں