عالم عرب کو اس وقت اظہار خیال کی آزادی کی سخت ضرورت۔لاپتہ سعودی صحافی کے آخری مضمون کی واشنگٹن پوسٹ میں اشاعت

واشنگٹن پوسٹ نے سعودی عرب کے لاپتہ صحافی جمال خشوگی کے آخری مضمون کو شائع کیا ہے جس میں انہوں نے عالم عرب میں صحافتی آزادی کی ناگفتبہ صورتحال پر اظہار خیال ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ کے ایڈیٹر کو صحافی کے ترجمان سے 2 اکتوبر کو صحافی کے لاپتہ ہونے ایک دن بعد یہ مضمون موصول ہواہے ۔ انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن پوسٹ نے اس کی اشاعت روک دی تھی کیونکہ ہمیں امید تھی کہ خشوگی دوبارہ ہمارے پاس واپس آجائیں گے ۔ لہذا ‘ہم اور وہ خود اس کی ترتیب کرسکیں ۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سعودی صحافی جمال خشوگی کا آخری کالم شائع کر دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ عرب دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ آزادیِ اظہار ہے۔اخبار کی ایڈیٹر کیرن عطیہ نے لکھا ہے کہ یہ کالم انھیں خشوگی کے مترجم کی جانب سے تین اکتوبر کو موصول ہوا تھا لیکن انھوں نے اسے ابھی تک اس لیے شائع نہیں کیا تھا کہ وہ شاید خشوگی واپس آ جائیں لیکن اب انھیں احساس ہو گیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ادھر امریکہ نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ اسے وہ ریکارڈنگ فراہم کرے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں ٹھوس ثبوت ہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا۔عرب ملکوں میں آزادیِ اظہار نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان ملکوں کے باسی یا تو لاعلم رہتے ہیں یا انھیں سرکاری میڈیا کی جانب سے غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔عرب سپرنگ سے امید کی کرن پھوٹی تھی کہ شاید عرب معاشرے کو آزادی ملے، لیکن یہ کرنیں جلد ہی دم توڑ گئیں بلکہ اندھیرا اور گہرا ہو گیا۔میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن سے بین الاقوامی برادری کی جانب سے کوئی ردِعمل بھی دیکھنے میں نہیں آتا، جس کی وجہ سے عرب ملکوں نے میڈیا کو لگام ڈالنے کے عمل کو تیز تر کر دیا ہے، کیوں کہ ان ریاستوں کا وجود ہی معلومات کنٹرول کرنے پر منحصر ہے ۔عرب دنیا بھی اسی طرح کے آہنی پردے کے پیچھے قید ہے جو سرد جنگ کے زمانے میں کمیونسٹ یورپ پر طاری تھا۔عرب دنیا کو ریڈیو فری یورپ کی طرز کے کسی ادارے کی ضرورت ہے ۔بین الاقوامی میڈیا کسی حد تک کوریج کرتا ہے لیکن عربوں کو خود ان کی زبان میں آزاد میڈیا کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں