فلسطینی قصبہ کی مسماری ‘اسرائیل کا جنگی جرم تصور کیاجائے گا

بین الاقوامی فوج داری عدالت نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس کے نواحی قصبے “الخان الاحمر” کو مسمار کرنے اور اس میں بسنے والے فلسطینیوں کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے سے باز رہے۔عالمی عدالت کی پراسیکیوٹر جنرل فاٹو بنسوڈا نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ “الخان الاحمر ‘‘ کی مسماری سے باز رہے۔ اگر تل ابیب نے انتباہ کے باوجودہ قصبہ مسمار کیا تو اسے جنگی جرم تصور کیا جائے گا۔عالمی عدالت انصاف نے الخان الاحمر کی مسماری کیخلاف جاری کردہ فیصلے کے جواب میں اسرائیل کی طرف سے اپیل مسترد کردی گئی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس اس قصبے کو مسمار کرنے اور وہاں پر بسنے والے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔عالمی عدالت کی پراسیکیوٹر جنرل نے بدھ کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ بہ ظاہر لگتا ہے کہ اسرائیل بندوق کے زور پر الخان الاحمر کی مسماری کے لیے تیار ہے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اسے جنگی جرم تصور کیا جایے گا۔واضح رہے کہ مشرقی بیت المقدس میں واقع الخان الاحمر قصبے کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ غیرقانونی طورپر قائم کیا گیا ہے۔ صہیونی حکام نے اس قصبے میں آباد فلسطینی بدوئوں کو چند کلو میٹر دور آباد کرنے کی پیش کش کی ہے، تاہم فلسطینیوں کا موقف ہے کہ اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے الخان الاحمر کومسمار کررہا ہے۔

جواب چھوڑیں