می ٹو اب مبالغہ آرائی کا ذریعہ بن چکی ہے: شتروگھن سنہا

اداکارہ سیاستداں شتروگھن سنہا کا کہنا ہے کہ اگرچیکہ می ٹو تحریک اچھی ہے مگر اب وہ ’’سب کیلئے کھلی‘‘ اور مبالغہ آرائی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ جب ان سے دوست سبھاش گھئی پر جنسی ہراسانی کے الزامات کے تعلق سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’’کوئی بھی فرد خاطی ثابت ہونے تک بے گناہ ہوتا ہے۔ میں می ٹو تحریک کے حق میں ہوں۔ اپنے 40سالہ کیریئر میں‘ میں نے کسی خاتون کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی۔ میں ہر خاتون کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ می ٹو مہم میں مبالغہ آرائی ہورہی ہے۔ یہ کاز یقینا نیک اور قابل ستائش ہے مگر اب یہ سب کے لیے کھلا بن چکا ہے۔ کوئی بھی آپ کا نام لے کر آپ کو شرمندہ کرسکتا ہے‘‘۔ میڈیا میں مقدمہ بازی کے ذریعہ نیک نامی اور نوکریاں جارہی ہیں۔ میں تمام خواتین سے جو متاثر ہوئی ہیں، کہوںگا کہ مہربانی کرکے عدالت جائیے اور خاطیوں کو سزا دیجئے۔‘‘

جواب چھوڑیں