پرانے شہر میں مجلس کی عوامی مقبولیت میں کمی

چارمینار کے دامن میں 20 اکتوبر کو منعقد ہونے والی راجیوگاندھی سدبھاونا تقریب میں صدر کانگریس راہول گاندھی کی شرکت دراصل پرانا شہر میں کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم کاعملاً آغاز ہے ۔ تلنگانہ کانگریس کے صدر این اتم کمارریڈی گذشتہ دنوں سدبھاونا تقریب کے انتظامات کاجائزہ لینے پہنچے تھے ۔ اس موقع پر انہوںنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہاتھا کہ کانگریس پارٹی اسمبلی انتخابات میں پراناشہر کے 7اسمبلی حلقہ جات چارمینار ‘ یاقوت پورہ ‘چندرائن گٹہ ‘کاروان ‘ بہادرپورہ اور ملک پیٹ میں طاقتور امیدواروں کو میدان میں اتارے گی اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس بار پرانا شہر میں کانگریس کو تین تا4نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ چنانچہ اتم کمار ریڈی نے اپنے ذرائع سے سروے کرواتے ہوئے پراناشہرکی سیاسی صورتحال سے واقفیت حاصل کی ہے ۔ اس سروے سے انہیں حوصلہ ملا ہے اور انہیں اس بات کا افسوس بھی ہواکہ گذشتہ 34 سال سے کانگریس نے پرانا شہر میں مجلس کے خلاف سنجیدگی کے ساتھ انتخابات میں مقابلہ نہیں کیاہے اور ہمیشہ کمزور امیدواروں کو ٹہراتے ہوئے مجلس کی کامیابی میں مددکی ہے ۔ سروے سے پتہ چلاہے کہ پرانا شہر کے 7اسمبلی حلقوں میں رائے دہی کا تناسب 47 فیصد تا52فیصد رہاہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پراناشہر کے 48فیصد لوگ رائے دہی میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ایم آئی ایم کوہمیشہ 30فیصد ہی حقیقی ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔باقی برکت کے ووٹوں کو ملاکر وہ کامیاب ہوجاتی ہے ۔ اتم کمار ریڈی کے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ چندبرسوں سے ایم آئی ایم کی عوامی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ 2016 کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں کانگریس نے پہلی بار مجلس کے خلاف جارحانہ مہم چلائی تھی جس کی وجہ سے ایم آئی ایم کو پرانا شہر کے 33 وارڈزمیں 2014 کے انتخابات کے مقابلہ میں 1,00,226 ووٹ کم حاصل ہوئے جبکہ ملک پیٹ ‘یاقوت پورہ اور بہادرپورہ اسمبلی حلقہ جات میں کانگریس کے حق میں رائے دہی کے تناسب میں اضافہ ہواہے ۔ ایک تجزیہ کے مطابق جی ایچ ایم سی انتخابات میں ایم آئی ایم کو 19فیصد رائے دہندوں کی تائیدحاصل ہوتی ہے مابقی81 فیصدرائے دہندے دوسری جماعتوں کوووٹ دیتے ہیں یاپھر ووٹ کا استعمال نہیں کرتے ہیں ۔ کانگریس کے سروے میں بتایا گیاہے کہ ایم آئی ایم کو گذشتہ تین دہوں سے اس لئے کامیابی ملتی رہی ہے کہ کانگریس ان کے خلاف سنجیدہ مقابلہ نہیں کرتی رہی اور طاقتور امیدواروں کومیدان میں نہ اتارنے سے مجلس کے امیدوار آسانی سے منتخب ہوجاتے ہیں ۔ چنانچہ اتم کمارریڈی نے اپنے حالیہ دورہ چارمینار کے موقع پر کہاکہ کانگریس پارٹی اس بار نہ صرف پراناشہر میں سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ کرے گی بلکہ بعض نشستوں پر کامیابی بھی حاصل کرے گی ۔ بتایا گیا ہے کہ کانگریس پارٹی مذکورہ حلقوں پرپارٹی کے طاقتور امیدواروں کو کھڑاکرے گی ۔ رائے دہی کے تناسب میں اضافہ کے لئے عوام میں شعور بیدار کرے گی ۔ واضح رہے کہ چارمینار کے قریب ہرسال 19اکتوبرکو سدبھاونا تقریب منعقد کرنا ایک معمول کی بات ہے لیکن اس بار اتم کمارریڈی اس تقریب کو انتخابی مہم سے جوڑنا چاہتے ہیں۔صدر کانگریس راہول گاندھی کی جومرکز کی بی جے پی حکومت کی نیندیںحرام کرچکے ہیں ‘پرانا شہر آمدنہ صرف ایک تاریخی واقعہ ہوگا بلکہ کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم کو تقویت حاصل ہوگی۔ اس دوران راہول گاندھی کے دورہ سے ٹی آرایس کوبھی زبردست دھکہ لگے گا۔ کے سی آر جووز یراعظم نریندر مودی کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں‘دوسری جانب ایم آئی ایم ‘ٹی آرایس کی آنکھ بندکرکے تائید کررہی ہے ۔ جس سے ملک میں فرقہ پرست طاقتیں مستحکم ہورہی ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر آنجہانی راجیوگاندھی کے اس پیام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے جو انہوں نے 1990 میں چارمینار کے دامن میں جھنڈی دکھا کر سدبھاونا یاترا کاافتتاح کیاتھا۔ کانگریس ذرائع کے بموجب راہول گاندھی کے دورہ کے بعد کانگریس پارٹی پرانا شہر میں پارٹی کی انتخابی مہم میں شدت پیداکرے گی اور انتخابی مہم کے دوران علاقہ کی عدم ترقی ‘ بیروزگاری ‘ہاوزنگ ‘ہیلت ‘تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے مسئلہ کو موضوع بحث بنائے گی۔ اس کے علاوہ کانگریس قائدین کی شخصی زندگی پر کیچڑ اچھالنے اوران کے خلاف نازیبا اورتوہین آمیز ریمارکس کی کسی کو بھی اجازت نہیں رہے گی ۔ اگرایسا کیاگیا تو کانگریس پارٹی اس کا جواب دینے کی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آئے گی ۔آج تک پرانا شہر کے قائدین یہ سمجھتے تھے کہ ہمارا کوئی متبادل نہیںہے بلکہ اب کانگریس اپنے آپ کو متبادل کے طورپر پیش کرتے ہوئے عوام کے درمیان جائے گی۔

جواب چھوڑیں