تاریخی جامع مسجد میں دوسرے جمعہ کو بھی نماز ادا نہیں کی گئی

سری نگر کے مرکزی علاقہ شہر خاص اور سیول لائنس کے بعض حصوں میں آج نماز ِ جمعہ کے بعد احتجاجوں سے گریز کرنے احتیاطی اقدام کے طور پر مسلسل دوسرے دن بھی کرفیو جیسی تحدیدات نافذ رہیں۔ شہریوں کی ہلاکتوں ، پبلک سیفٹی قانون کے تحت نوجوانوں کی گرفتاری اور سیکورٹی فورسس کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مبینہ زدوکوب کرنے کے خلاف علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کے بعد سیکورٹی اقدامات کے طور پر کل سے ان علاقوں میں تحدیدات نافذ کی گئی تھیں۔ پولیس نے آج بتایا کہ ایم آر گنج ، نوہٹہ ، رینا واری ، صفا کدل اور خانیار کے علاوہ شہر خاص میں کل صبح سے کسی بھی نظم و ضبط کے مسئلہ کو روکنے احتیاطی اقدام کے طور پر دفعہ 144 نافذ کیا گیا تھا۔ قدیم شہر میں واقع پولیس اسٹیشن کرال خود اور سیول لائنس کے علاقہ میسومہ میں بھی جزوی طور پر تحدیدات عائد کی گئی تھیں ۔ سیکورٹی فورسس اور ریاستی پولیس کی جانب سے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایتیں دی جارہی تھیں ، کیوںکہ آج صبح سے ہی ان علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔ تاریخی جامع مسجد جس میں گذشتہ جمعہ کو بھی نماز ادا نہیں کی گئی ، کل سے ہی اُس کے تمام دروازے بند کردیے گئے ۔ مسجد میں داخلہ سے روکنے کے لیے جامع مارکٹ اور قریبی علاقوں میں سیکورٹی فورسس اور ریاستی پولیس کو بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا تھا ۔ جامع مسجد کا علاقہ اعتدال پسند حریت کانفرنس کے صدرنشین میر واعظ مولوی عمر فاروق جو 7 اکتوبر سے نظربند ہیں ، کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ تحدیدات پر سختی سے عمل آوری کے لیے سیکوریٹی فورسس اور پولیس کے سینکڑوں ملازم خودکار اسلحہ تھامے اور بلیٹ پروف جیکٹ زیب تن کیے علاقہ میں طلایہ گردی کرتے دکھائی دے رہے تھے ۔ تارہ بل ، نوکدل کی نلہ مارگ روڈ جو خانیار چوراہے کو جاتی ہے ، ٹریفک اور پیدل چلنے والوں کی آمد و رفت کے لیے بند کردی گئی تھی۔ شہر خاص اور شہر کے مرکزی علاقوں کے مقامات نواں کدل ، راجوری کدل ، کادرا اور خانیار کے مقامات کو خاردار تار سے بند کردیا تھا۔ نوہٹہ ، رنگار اسٹاپ اور گوجوارہ میں بھی سیکورٹی فورسس نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں ۔ چہارشنبہ کے دن سری نگر کے مرکزی علاقہ میں ایک انکاؤنٹر میں ہلاک تین عسکریت پسندوں میں لشکر طیبہ کمانڈر معراج الدین بنگرو بھی شامل تھا۔ انکاؤنٹر کے بعد نوجوانوں کی سیکورٹی فورسس کے ساتھ کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں ۔ انکاؤنٹر کی رپورٹنگ کرنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندے جو مقامی ، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ تھے کو سیکورٹی فورسس نے مبینہ طور پر زدوکوب کیا تھا۔

جواب چھوڑیں