خشوگی‘ یقینی طورپر فوت ہوچکے ہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا یقینی طورپر دکھائی دیتا ہے کہ جمال خشوگی فوت ہوگئے ہیں اور دھمکی دی کہ اگر خشوگی کو قتل کیاگیا ہے تو اس کے سنگین نتائج سعودی عرب کو برداشت کرنے ہوں گے۔ ناراض صحافی کے غائب ہونے کے جواب میں شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ پر عالمی سطح پر برہمی بڑھ گئی ہے۔ ٹرمپ کے ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب انہوں نے تحقیقات کے بارے میں مختصر سی بات بتائی جسے سکریٹری آف اسٹیٹ مائک پمپیو نے سعودی عرب اور ترکی کے دورہ سے واپسی کے بعد بتائی تھی۔ 60سالہ خشوگی جو 2اکتوبر سے لاپتہ ہیں جب وہ استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانہ میں داخل ہوئے تھے ان کے بارے میں یہ خدشہ ہے کہ انہیں مشن کے اندر ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعہ پر عالمی برہمی ظاہر ہورہی ہے۔علاوہ ازیں امریکہ میں جہاں وہ قانونی طورپر مستقل مکین کی حیثیت سے رہتے تھے اور واشنگٹن پوسٹ کیلئے کام کرتے تھے۔ یقیناً ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انہیں ہلاک کردیا گیا ہے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے ۔ ٹرمپ نے یہ بات جمعرات کے دن ایک مہم کے دوران ریالی میں شرکت کیلئے روانگی سے قبل جوائنٹ ایرفورس بیس اینڈریوس پر نامہ نگاروں سے کہی۔ ترک تحقیقات کنندگان نے مقامی اور امریکی میڈیا کو بتایا کہ خشوگی کا وحشیانہ قتل قونصل خانہ کے اندر کیا گیا ہے۔ یہ دریافت کرنے پر کہ اگر سعودی قائدین اس کے ذمہ دار قرار دئیے گئے تو اس کے کن نتائج کا انہیں سامنا کرنا ہوگا تو ٹرمپ نے جواب دیا یہ نتائج بڑے سنگین ہوں گے۔ یہ بری بات ہے اور انتہائی سخت غلط حرکت ہے آج ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوسکتا ہے۔ ہم کچھ تحقیقات کا انتظار کر رہے ہیں اور نتائج کا بھی انتظار ہے اور یہ ہمیں جلد ہی حاصل ہوجائیں گے۔ میرے خیال میں اب ہم ایک بیان جاری کرسکتے ہیں اور یہ بڑا سخت ہوگا۔ ٹرمپ کے ساتھ پومپیو کی میٹنگ کے دوران یہ تجویز پیش کی گئی کہ سعودی عرب کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے کچھ اور وقت دیا جائے۔ ہم نے یہ واضح کردیا ہے ہم خشوگی کے تعلق سے اس معاملہ کو بڑی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ہم سے انہوں نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ وہ خشوگی کے لاپتہ ہونے کو سنگین نوعیت کا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت نے انہیں تیقن دیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کروائیں گے۔ میں نے آج صبح صدر ٹرمپ کو کہہ دیا ہے کہ ہمیں چاہیئے کہ مزید کچھ دن دئے جائیں تاکہ تحقیقات مکمل ہوسکے تب ہی ہمیں حقائق کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس نکتہ پر ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ پومپیو کے ترجمان نے کہا کہ نہ تو انہوں نے کوئی ٹیپ کی سماعت کی ہے اور نہ ہی کوئی تحریر اس بارے میں دیکھی ہے جو خشوگی کے لاپتہ ہونے سے متعلق ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اے بی سی نیوز نے دعویٰ کیا کہ پومپیو نے مبینہ آڈیو ریکارڈنگ ترک عہدیداروں کے ساتھ انقرہ میں ملاقات کے دوران سنی تھی۔ سکریٹری پومپیو نہ تو ٹیپ کو سنا تھا اور نہ ہی کوئی تحریر جنرل خشوگی کے لاپتہ ہونے سے متعلق دیکھی تھی۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ہیتھر نارٹ نے یہ بات بتائی۔ ایک دن قبل پومپیو نے اس مسئلہ پر سوالات کے جواب دینے سے انکار کردیا تھا۔ میرے پاس اس بارے میں کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے کہی۔ پومپیو سے ملاقات کے ایک گھنٹہ بعد ٹرمپ نے نیویارک ٹائمس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ خشوگی کا قتل کیا گیا ہے جو کہ انٹیلیجنس ہمہ رخی ذرائع نے بتایا ہے۔ یہ بات ساری دنیا کے تصور میں بیٹھ چکی ہے بدقسمتی سے یہ کوئی مثبت نوعیت کی نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یہ کہا کہ جب تک کوئی کرشمہ یا کرشمات نہیں ہوتے میں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ وہ فوت ہوچکے ہیں۔ یہ تمام چیزوں کی بنیاد پر مبنی ہے۔ انٹیلجنس ہر طرف سے آرہی ہے۔ انہوں نے یہ بات روزنامہ کو بتائی۔

جواب چھوڑیں