ممتاز شاعر ‘ماہراقبالیات جناب مضطر مجاز کاسانحہ ارتحال

حیدرآباد دکن کے ممتاز سخنورشاعر‘ماہر اقبالیات او رروزنامہ منصف کے ادبی ایڈیشن کے انچارج جناب مضطر مجاز کاجمعہ کی شام کو اچانک انتقال ہوگیا ۔ وہ 84برس کے تھے ۔ انہیں انگریزی‘فارسی اور اردوزبانوں پر عبور حاصل تھا۔ سابق عثمانین مضطرمجاز ‘ محکمہ امدادباہمی میں سب رجسٹرارکے عہدہ سے وظیفہ پر سبکدوش ہوئے تھے ۔ شاعرمشرق علامہ اقبال کے فارسی کلام کااردو میں ترجمہ ان کے تخلیقی وادبی سفر میں سنگ میل رکھتا ہے ۔ انہوں نے غالب کے فارسی کلام کا بھی ترجمہ کیاہے۔ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ۔ ان کی ادبی خدمات چھ دہوں پرمحیط ہے ان کی شعری تصانیف میں’’موسم سنگ‘‘ ایک سخن اور ‘ایک زخم نہاںاور (طلسم مجاز) قابل ذکر ہیں۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں غالب ایوارڈ سے بھی نوازاکیاگیاتھا۔ نماز جنازہ ہفتہ کوبعدنماز ظہرمسجد میرمومن سعید آباد میںاداکی جائے گی اور تدفین درگاہ حضرت اجالے شاہ ؒ سے متصل قبرستان میں عمل میں آئے گی۔ پسماندگان میں اہلیہ ‘ 4فرزندان اورایک دخترشامل ہے ۔مزید تفصیلات کیلئے فون نمبر 040-24072185 پرربط پیدا کیا جاسکتا ہے ۔
ایڈیٹرانچیف روزنامہ منصف جناب خان لطیف محمدخان کا اظہار تعزیت
حیدرآباد۔19اکتوبر(منصف نیوز بیو رو)ایڈیٹرانچیف روزنامہ منصف جناب خان لطیف محمدخان نے شہر حیدرآباد کی مشہور ادبی شخصیت جناب مضطرمجاز کے سانحہ ارتحال پر گہرے دکھ وصدمہ کااظہار کیا۔ اپنے تعزیتی بیان میں انہوںنے کہاکہ جناب مضطر مجاز کے انتقال سے وہ ‘ایک مخلص دوست سے محروم ہوگئے ہیں۔ انہوںنے مزید کہاکہ مضطرمجاز روزنامہ منصف سے تقریباً2دہے تک وابستہ رہے اورانہوںنے اخبار کی ترقی میں گرانقدر رول ادا کیا۔ ان کی دوراندیش شخصیت اور ادبی مہارت کے باعث روزنامہ منصف کے ادبی ایڈیشن کوملک بھر کے ادبی ایڈیشنوں میں ممتاز مقام حاصل ہوا۔ عوام ‘ان کی تحریروں کو پڑھنے کے لئے بے چین رہاکرتے تھے ۔ ان کے انتقال سے ادبی دنیا ایک ممتازشاعر ‘ماہر اقبالیات سے محروم ہوگی اور ان سے ادبی دنیا میں جوخلاء پیداہواہے اس کا پرہونا ناممکن تونہیں مگر مشکل ضرورہے ۔ جناب خان لطیف محمدخان نے جناب مضطرمجاز کے غم زدہ افراد خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ وہ ‘مرحوم کی مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لئے اللہ عزوجل سے دعاگو ہیں۔

جواب چھوڑیں