ناقص بینائی کیلئے 16 سی آئی ایس ایف ملازمین کی برطرفی قانوناً جائز : دہلی ہائیکورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے رنگوں کو دیکھنے میں خامیوں اور ناقص بینائی کے لیے 16 سنٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) جوانوں کی خدمات برخواست کرنے کو قانوناً جائز قرار دیا۔ جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس ریکھا پالی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ تقرر کے لیے حکام کی جانب سے طبّی معیارات مقرر کرنے کے بعد عدالت اُن میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ بنچ نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے فروری 2013ء میں رہنمایانہ پالیسی کا تعین کرنے کے بعد کسی قسم کا شبہ نہیں رہ جاتا کہ ناقص بینائی والا شخص سنٹرل آرمڈ فورسس یا آسام رائفلس میں تقرر کے لیے اہل رہ سکتا ہے ۔ سی آئی ایس ایف کے 16 ملازمین جنہیں گذشتہ سال ستمبر میں ملازمت سے برطرف کیا گیا عدالت سے رجوع ہوئے تھے۔ انہوں نے سی آئی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے اپیل مسترد کرنے کو بھی چیلنج کیا تھا۔ درخواست گذاروں نے یہ ادّعا پیش کیا تھا کہ ابتدائی طبّی معائنہ کے بعد ان کا تقرر کیا گیا تھا ، اس کے بعد ان کی برطرفی غیرقانونی ہے ۔ انھوں نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اس مرحلہ میں ان کا برطرف کیا جانا نامنصفانہ ہے ، کیوںکہ اور کسی ملازمت کے لیے ان کی عمر تجاوز کرگئی ہے۔ بنچ نے کہا کہ اگر کوئی شخص ناقص بینائی کے باوجود غلطی سے تقرر کیا گیا ہو اور بعد ازاں اس کی ناقص بینائی کا پتہ چلنے پر اس ڈاکٹر کے خلاف موزوں محکمہ جاتی کارروائی کرتے ہوئے سخت سزا دی جانی چاہیے۔

جواب چھوڑیں