کوچی کی ریحانہ اور حیدرآباد کی کویتا کو ایپا مندر کے درشن سے روک دیاگیا

ایپا مندر کے باب الداخلہ پر سینکڑوں بھکتوں کے احتجاج نے کیرالا پولیس کو جو 2 عورتوں کے ساتھ تھی اپنا سفر منسوخ کردینے پر مجبورکردیا۔ 10:50بجے دن حیدرآباد کی صحافی کویتا اور اس کے 4 رکنی عملہ نے کوچی کی ایپا بھکت ریحانہ فاطمہ کے ساتھ مندر کی طرف اترنا شروع کیاتھا۔ لگ بھگ 6:48بجے صبح 2 عورتوں نے جن کے ساتھ 100پولیس والے انسپکٹر جنرل پولیس ایس سریجیت کے ساتھ موجود تھے 2گھنٹوں کی چڑھائی شروع کی تھی۔ 20پولیس والے آگے اور80پولیس عہدیدار ان کے پیچھے موجود تھے۔ مندر تنتری اور صدرپُجاری سے جڑے لگ بھگ 30 ملازمین پوجامنتر چھوڑکر مندر کے گربھ گرہ(اندرونی کمرہ جہاں مورتی رکھی ہوئی ہے) کی سمت جانے والی 18 سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہیں پتہ چلا تھا کہ 2 عورتیں مندر پہنچنے والی ہیں۔ گروپ جب مندر کے پہلے انٹری پوائنٹ پر پہنچا تو سینکڑوں احتجاجی سڑکوںپر لیٹے تھے۔ آئی جی پی نے احتجاجیوں سے کہا کہ حکومت نے طاقت کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا وہ مان جائیںیعنی عورتوں کو مندر کے درشن کرنے دیں۔ ایک گھنٹہ بعدانہوں نے میڈیا کو بتایاکہ مندرتنتری نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ روایت اور عقیدہ کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ مندربند کردیں گے۔ پولیس عہدیدار نے دونوں عورتوں سے بات کی۔ انہوں نے بھی کہا کہ وہ سفرچھوڑ کر لوٹ جائیں گی لیکن انہیں گھر تک پہنچنے تک پروٹکشن دیاجائے تاہم کیرالا کے وزیر دیوسوم کڈکمپلی سریندرن نے میڈیا کو بتایاکہ انہیں پتہ چلا ہے کہ دونوں عورتیں ‘اصل میں جہدکار تھیں۔ ہمارا فرض بھکتوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے ۔جہد کاروں کے حقوق کی نہیں۔ اسی دوران کوچی میں فاطمہ کے مکان کو نقصان پہنچایا گیا۔ فاطمہ کوچی میں بی ایس این ایل کی ملازمہ ہے اور کے ساتھ رہی ہے۔ بی ایس این ایل بیان جاری کرتے ہوئے کہ ریحانہ فاطمہ کے احتجاج سے بی ایس این ایل کا کوئی لینادینا نہیں ہے۔
تین ریاستیں چوکنا رہیں: مرکز
نئی دہلی۔19اکتوبر(پی ٹی آئی) مرکز نے جنوبی ریاستیں کیرالا‘ ٹاملناڈو اور کرناٹک سے کہا ہے کہ وہ ایپا مندر میں ہر عمر کی عورتوں کے داخلہ کی سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد جاری احتجاج کے مدنظرچوکنارہیں۔ مرکزی وزارتِ داخلہ نے ایک اڈوائزری نے تین ریاستوںسے کہا کہ وہ سوشل میڈیا اور انٹرنٹ سرویسیس کے ذریعہ منفی پیامات کی ترسیل کی نگرانی کریں۔ نظم وضبط کی برقراری کیلئے تمام احتیاطی اقدامات کئے جائیں۔ یہ اڈوائزری وزارتِ داخلہ کے انٹرنل سیکیوریٹی ڈیویژن نے بھیجی ہے۔

جواب چھوڑیں