یوپی اے دور کی ایرانڈیا معاملتیں ‘منی لانڈرنگ کیسس درج

مسائل میں گھری سرکاری ایرلائن ایرانڈیا کے لئے نئی مصیبت پیدا ہوگئی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی) نے پچھلی یوپی اے دور میں طئے پائے کم ازکم چار معاملات میں بے قاعدگیوں اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کیلئے کئی فوجداری کیسیس درج کئے ہیں۔ ایجنسی نے کم ازکم 4 انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹس (ای سی آئی آر) داخل کئے ہیں۔ ای ڈی کی ای سی آئی آر پولیس کی ایف آئی آر کے برابر ہوتی ہے۔ ای سی آئی آر منی لانڈرنگ قانون کے تحت درج ہوئی۔ عہدیداروں نے جمعہ کے دن پی ٹی آئی کو بتایاکہ ای ڈی نے ایرلائنس اور دیگر محکموں سے متعلقہ کاغذات طلب کئے ہیں، کیونکہ ان کیسیس کو سیاسی لحاظ سے حساس کہاگیا ہے۔ چارمعاملتوں میں ایرانڈیا اور انڈین ایرلائنس کا متنازعہ انضمام بھی شامل ہے۔ یہ ای ڈی کیسیس سی بی آئی کی چار ایف آئی آر پر مبنی ہے۔ توقع ہے کہ ای ڈی عنقریب چند عہدیداروں اور دیگر افراد کو سمن جاری کرے گی اور پوچھ تاچھ کیلئے طلب کرے گی۔ سی بی آئی نے ایرانڈیا وزارت شہری ہوابازی کے نامعلوم عہدیداروں اور دیگر کے خلاف کیسیس درج کئے تھے۔ ایک معاملہ 111طیاروں کی خریداری کا بھی ہے۔ 70ہزار کروڑ کی اس معاملت سے غیر ملکی طیارہ سازوں کو فائدہ پہنچا۔ سرکاری ایرلائن کو جو پہلے سے دباؤ میں تھی، مالی نقصان ہوا۔

جواب چھوڑیں