امرتسر سانحہ ، 37 ٹرینیں منسوخ۔ 16 ٹرینوں کا رخ موڑا گیا

امرتسر کے قریب ٹرین حادثہ کے ایک دن بعد آج ریلویز نے 37 ٹرینیں منسوخ کردیں اور 16 ٹرینوں کا رخ موڑ دیا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز امرتسر کے قریب ایک ٹرین نے پٹریوں پر ٹھہر کر دسہرہ کا جشن منانے والے افراد کو کچل دیا تھا ۔ اس حادثہ میں 61 افراد ہلاک اور زائد از 70 زخمی ہوئے تھے۔ ریلویز نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 10 میل ؍ اکسپریس ٹرینوں اور 27 مسافر ٹرینوں کو منسوخ کیا گیا ، جب کہ 16 ٹرینوں کا رخ موڑا گیا اور وہ مختلف راستہ سے اپنی منزل پر پہنچیں ۔ 18 ٹرینوں کا سفر مختصر کردیا گیا ۔ ناردرن ریلوے کے ترجمان دیپک کمار نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ جالندھر اور امرتسر کے درمیان روٹ کو معطل کردیا گیا۔ ریلویز کا کہنا ہے کہ اسے دسہرہ پٹریوں کے قریب دسہرہ تقریب کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی ۔ ریلوے بورڈ کے صدرنشین اشونی لوہانی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ امرتسر اور مناولا اسٹیشنوں کے درمیان مڈ سکشن پر پیش آیا ، لیول کراسنگ پر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور نہ ہم سے اجازت لی گئی تھی ۔ یہ واقعہ ایک خانگی اراضی سے متصل ریلوے کی اراضی پر پیش آیا۔ مڈ سیکشن پر ٹرینیں مقررہ رفتار سے دوڑتی ہیں اور مڈ سیکشن پر لوگوں کے موجود ہونے کی توقع نہیں کی جاتی ۔ یہاں ریلوے کے عملہ کو تعینات نہیں کیا جاتا ۔ ہم لیول کراسنگ پر عملہ کو تعینات کرتے ہیں ، جس کا کام ٹریفک کو باقاعدہ بنانا ہے ۔ انہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ریلوے کے عملہ نے ہجوم کے بارے میں کیوں اطلاع نہیں دی تھی۔ لوہانی کے مطابق گیٹ میان لیول کراسنگ پر 400 میٹر کے فاصلہ پر تھا ۔ اگر ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک لگائے ہوتے تو اس سے زیادہ بڑا سانحہ رونما ہوسکتا تھا ۔ یہ ٹرین مقررہ رفتار سے دوڑ رہی تھی اور ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ ڈرائیور نے بریک لگائے تھے اور پھر ٹرین کی رفتار کم ہوئی تھی ۔ لوہانی نے کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ریلویز نے کئی شعور بیداری مہمیں چلائی ہیں اور عوام کو تلقین کی ہے کہ ہے کہ وہ غیرقانونی طور پر اراضی میں داخل نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ مہم جاری رکھیںگے ۔

جواب چھوڑیں