امرتسر ٹرین واقعہ‘ریلویز کی کوئی چوک نہیں

پنجاب میں دسہرہ منانے والے 60 افراد ایک ٹرین کی زد میں آنے کے ایک دن بعد مرکزی مملکتی وزیر ریلوے منوج سنہا نے ہفتہ کے دن کہاکہ ان کی وزارت کو کسی چوک کے لیے موارد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ امرتسر کے جوڑا پھاٹک میں دسہرہ کی تقریب کی جانکاری مقامی انتظامیہ یا منتظمین نے نہیں دی تھی بلکہ کمشنر ( امرتسر) نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس مقام پر دسہرہ منانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ منوج سنہا نے جنہوں نے کل نصف شب مقام حادثہ کا دورہ کیا ‘ اخباری نمائندوں کو یہ بات بتائی ۔ جمعہ کو جوڑا پھاٹک پر 700 افراد راون کا پتلا نذر آتش کرنے کامنظر ریل پٹریوں پر ٹھہر کر دیکھ رہے تھے ۔ اس وقت پٹاخے پھوٹ رہے تھے ۔ امرتسر سے ہوشیار پور جانے والی جالندھر ۔ امرتسر ڈی ایم یو پاسنجر ٹرین نے لگ بھگ 7 بجے شام لوگوں کو روند ڈالا ۔ صرف10-15 سکنڈ میں یہ لوگ کچلے گئے ۔ سوشیل میڈیا پرپوسٹ ویڈیو فوٹیج میں بعض لوگوں کو جنہوں نے شاید آنے والی ٹرین کو دیکھ لیاتھا بھاگتے دیکھا گیا ۔ منوج سنہا نے کہاکہ جس مقام پر راون دہن کیاجاتا تھا و دیگر مقام حادثہ سے تقریباً70 میٹر دور ہے اور یہ زمین ریلویز کی نہیں ہے ۔ عینی شاہدین اور زندہ بچنے والوں کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے شور میں ٹرین کی گڑگڑہٹ سنائی نہیں دی ۔ منوج سنہا نے کہا کہ یہ وقت ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کا نہیں ہے ۔ ملک بھر میں ریلوے پٹریوں کے پاس رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہے ۔ قبل ازیں صدر نشین ریلوے بورڈ اشونی لوہان نے واضح کیا کہ مقام حادثہ ‘2اسٹیشنوں کے درمیانی سکشن کے تحت ہے جہاں ٹرینیں پٹریوں کی حالت کے مطابق تجویز کردہ رفتار سے چلتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مقام حادثہ ‘لیول کراسنگ نہیں ہے ۔ ٹرینیں اپنی رفتار سے چلتی ہیں اور لوگوں کو پٹریوں پر نہیں آناچاہئے ۔ لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ریل پٹریوں کے قریب کوئی تقریب منعقد نہ کریں ۔ لوکو پائلٹ ( انجن ڈرائیو ر ) کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھنے پر لوہانی نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے بریک لگادیا اور ٹرین کی رفتار 90 میٹر فی گھنٹہ سے گھٹ کر 60-65 کلو میٹر ہوگئی ۔ ہم اسپیڈو میٹر چارٹ دیکھ رہے ہیں ہیں ۔ ٹرین ڈرائیور کو لدھیانہ پولیس اسٹیشن میں زیر حراست رکھاگیاہے ۔ پنجاب پولیس اور ریلوے پولیس نے پوچھ تاچھ کی ۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ انجن ڈرائیور ایمرجنسی بریک نہیں لگایا کیونکہ ایسا کرنے سے تیز رفتار ٹرین سے پٹریوں سے اتر سکتی تھی ۔ پی ٹی آئی کے بموجب امرتسر پولیس نے کہاکہ جوڑا پھاٹک کے قریب دسہر ہ تقاریب کے لیے این او سی (کوئی اعتراض نہیں ) سرٹیفکیٹ جاری کیاگیاتھا لیکن منتظمین نے میونسپل کارپوریشن اور محکمہ انسداد آلودگی سے اجازت نہیں لی تھی ۔ منتظم سوربھ مدن نے جو دسہرہ کمیٹی کا صدر اور کانگریس کونسلر وجیہ مدن کا شوہر ہے ۔19 اکتوبر کی تقریب کے لیے اجازت مانگی تھی ۔ اس نے پولیس سیکیورٹی بھی مانگی تھی کیونکہ کابینی وزیر نوجوت سنگھ سدھو اور ان کی بیوی نوجوت کور سدھو بھی تقریب میں شرکت کرنے والے تھے ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس امریک سنگھ پوار نے کہاکہ منتظمین سے کہاگیاتھا کہ وہ بلدیہ اور محکمہ انسداد آلودگی سے بھی اجازت لیں ۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اجازت نہیں لی گئی تو دسہرہ تقریب کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ امرتسر میونسپل کارپوریشن نے بھی کہا کہ دھوبی گھاٹ گراونڈ امرتسر میں دسہرہ تقاریب کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ کسی نے اجازت مانگی بھی نہیں تھی ۔ اپوزیشن جماعتوں بشمول اکالی دل ‘ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی نے اجازت دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کامطالبہ کیاہے ۔

جواب چھوڑیں