امریکہ کی آئندہ پابندیاں ایران میں معیشت کو لپیٹ میں لے لیں گی ؟

ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کا دوسرا دور دو ہفتوں بعد نومبر کے اوائل سے شروع ہو رہا ہے جس میں ایرانی معیشت کے قلب کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے غیر ملکی سرمائے کے بہاؤ کو معطّل کیا جائے گا جو ملک میں نقدی کی صورت میں آتا ہے جب کہ دوسری جانب ایرانی مقامی کرنسی مسلسل زوال کا شکار ہے۔ اس حوالے سے فارسی زبان میں نشر ہونے والے امریکی ریڈیو “فردا” کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے پہلے دور کے اثرات کی روشنی میں نظر آ رہا ہے کہ پابندیوں کا دوسرا دور ایرانی معیشت کی نْمو کو سست کر سکتا ہے اور ساتھ ہی بے روز گاری اور غربت کے تناسب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمّتی کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی بینکنگ کے معاملات کے خلاف امریکی پابندیوں کا دوسرا دور غیر مؤثر ہو گا تاہم مذکورہ ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی حقائق زیادہ تاریک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ سال 2015ء میں جوہری معاہدے کے طے پانے کے بعد سے تہران کے ساتھ کام کرنے سے مربوط سیاسی اور اقتصادی خطرات میں کمی آنے کے سبب مغربی کمپنیوں کی جانب سے ایران میں سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم اس کے ساتھ ایرانیوں نے یہ شکوہ کیا تھا کہ یورپی ممالک کو ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون شروع کرنے کے حوالے سے کوئی جلدی نہیں۔ اس کے نتیجے میں سخت گیر ایرانیوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی جن میں رہبر اعلی علی خامنہ ای سرفہرست تھے۔ نومبر 2016ء میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب کے ساتھ ہی ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر توجہ دھندلانے لگی۔ مارچ 2017 سے اس سال کے وسط تک چار ماہ کے دوران صنعت اور تجارت کے سیکٹروں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے کئی منصوبے کم ہو گئے۔ اس دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کی مالیت 77.53 کروڑ امریکی ڈالر سے کم ہو کر 34.91 کروڑ ڈالر ہو گئی۔ اس کی وجہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ تھا جب کہ متعدد غیر ملکی کمپنیاں ایران سے کوچ بھی کر گئیں۔ رواں سال مئی میں ایرانی اور امریکی عہدے داروں کے درمیان بیانات کی جنگ شروع ہونے کے ساتھ بھی غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی جاری رہی۔ اس حوالے سے 4 نومبر کو ایران کے خلاف پابندیوں کے دوسرے دور کے آغاز کا وقت قریب آنے پر کئی ایرانی سرمایہ کار بھی ملک سے جاتے نظر آئے۔ رواں سال امریکی ڈالر کے نرخوں میں بھی انتہائی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مارچ 2018ء میں ایک ڈالر 35 ہزار ایرانی ریال کے مساوی تھا جب کہ ستمبر 2018ئ￿ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 1.90 لاکھ ریال تک پہنچ گئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی نے ابتدائی طور پر آئل اور پٹروکیمیکل صنعتوں پر اثر ڈالا۔ بعد ازاں اس نے دیگر سیکٹروں کو بھی متاثر کیا اور آخر کار چھوٹی کمپنیوں اور عام افراد کی سطح تک پہنچ گئی۔ عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے بھی ایران کے حوالے سے اپنی سابقہ توقعات کو تبدیل کر دیا۔ ادارے کے اعلان کے مطابق رواں سال معیشت کی شرح نمو 1.47 فی صد ہو گی۔ اس کا مطلب ہے کہ آئندہ سال اس شرح میں 3.6 فی صد کی کمی متوقع ہے۔ توقع ہے کہ مذکورہ کمی کے نتیجے میں دو سال سے بھی کم عرصے میں ایران میں فی کس آمدنگی 5521 ڈالر سے کم ہو کر 4052 ڈالر ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ایرانی شہریوں کی بچت بھی متاثر ہو گی جس کے نتیجے میں عوام کو بڑھتے ہوئے اقتصادی خطرات سے نمٹنے میں شدید مشکلات درپیش ہوں گی۔

جواب چھوڑیں