خشوگی کیس کی عاجلانہ ومنصفانہ تحقیقات ضروری: امریکہ

وائٹ ہائوس نے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں لاپتا ہونے والے صحافی جمال خشوگی کے کیس کے حوالے سے جاری تفتیش کے بارے میں کہا ہے کہ امریکہ خشوگی کیس کی فوری اور منصفانہ تحقیقات چاہتا ہے۔ذرائعکے مطابق سعودی عرب کی جانب سے خشوگی کیس کی ابتدائی رپورٹ جاری کیے جانے کے بعد وائٹ ہائوس کی طرف سے بھی رد عمل سامنے آیا ہے جس میں سعودی عرب کی تحقیقات کو مثبت قراردیا گیا ہے۔ وائٹ ہائوس کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ خشوگی کے کیس کی شفاف، منصفانہ اور فوری تحقیقات چاہتا ہے اور اس حوالے سے ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ امریکہ نے صحافی جمال خشوگی کے سعودی قونصل خانے میں مارے جانے پر گہرے دکھ کا بھی اظہار کیا اور مقتول کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت کی ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ جمال خشوگی کو سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد لڑائی جھگڑے کے دوران ماردیا گیا ہے۔ سعودی عرب جمال خشوگی کی موت کے ذمہ دار 18 افراد سے تفیش کر رہا ہے۔ یہ تمام افراد سعودی شہری ہیں اور انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جمال خشوگی کی ہلاکت کا واقعہ ’ناقابل قبول‘ ہے تاہم سعودی عرب امریکہ کا ایک اہم اتحاد ملک ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کے بعد سعودی حکومت کے رد عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریاض حکومت کی طرف کی جانے والی چھان بین پر بھروسہ ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر پابندیاں عائد کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے تاہم اس بارے میں مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ سعودی عرب نے جمعہ کی شب پہلی مرتبہ اس صحافی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ گزشتہ ڈھائی ہفتوں سے افواہوں کا بازار گرم رہنے کے بعد آخرکار سعودی عرب نے اپنے صحافی شہری جمال خشوگی کی گمشدگی کے حوالے سے جاری بحث کو فیصلہ کن انجام تک پہنچا دیا۔ ہفتہ کی صبح سعودی پراسیکیوشن نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ خشوگی استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر کئی لوگوں کے ساتھ جھگڑے اور ہاتھا پائی کے بعد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سعودی ذریعہ کے مطابق خشوگی کی مملکت واپسی کے امکان کے اشارے سامنے آنے کے بعد بعض افراد نے قونصل خانے میں سعودی صحافی سے ملاقات کی۔ ذریعہ نے مزید بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے 18 سعودی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے قونصل خانے میں خشوگی کی موت پر پردہ ڈالا اور قونصل خانے میں اْن کی موجودگی سے انکار کیا۔ ان افراد نے ریاض میں سعودی حکام کو یہ بتایا کہ سعودی صحافی بحفاظت قونصل خانے سے جا چکے تا کہ خود کو ذمّے دار ٹھہرانے سے بچا جا سکے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے مطلع ایک شخص نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ کارروائی کے لیے کرنل ماہر مطرب کو چْنا گیا تھا کیوں کہ وہ لندن مین سعودی صحافی کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ اسی ذریعے نے بتایا ہے کہ سعودی قونصل خانے کا ڈرائیور اْن افراد میں شامل ہے جنہوں نے خشوگی کی لاش کو مقامی معاون کے حوالے کی۔ واضح رہے کہ سعودی پراسیکیوشن کے دفتر نے باور کرایا ہے کہ خشوگی کے کیس میں اْس کی تحقیقات 18 زیر حراست افراد کے ساتھ جاری ہے تا کہ تمام تر حقائق تک پہنچ کر اْن کا اعلان کیا جا سکے۔ پراسیکیوشن کے مطابق تمام ملوث افراد کا کڑا احتساب کیا جائے گا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں پہنچایا جائے گا۔سعودی عرب کی حکومت کے ایک ذمہ دار ذرائع نے باور کرایا ہے کہ سعودی شہری جمال خشوگی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر موت کے گھاٹ اتارنے والے افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ خشوگی کو لڑائی کے دوران مارا گیا۔ سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمال بن احمد خشوگی کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ خشوگی کی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد اس کی موت تک تمام پہلوئوں پر تفتیش ہو رہے ہے۔ سعودی عرب نے تحقیقات کے لیے ایک تفتیشی ٹیم 6 اکتوبر ترکی بھیجی جس نے ترکی کے اداروں کے ساتھ مل کر جمال خشوگی کے کیس کی چھان بین۔ مشترکہ تحقیقات کے بعد برادر ملک ترکی کے سیکیورٹی اداروں کو بھی قونصل خانے کی تلاشی لینے کی اجازت دی گئی۔ ترک پولیس نے استنبول میں سفارت کاروں کی رہائش گاہوں کی بھی تلاشی لی۔ ان تمام اقدامات کا مقصد جمال خشوگی کیس کے حوالے سے جاندار تحقیقات کرنا اور حقائق سامنے لانا تھا۔ادھر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پراسیکیوٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ خشوگی کیس کی ٹھوس تحقیقات کر کے حقائق دنیا کے سامنے پیش کرے۔

جواب چھوڑیں