مودی اور کے سی آر پر تنقید سے کانگریس کی انتخابی مہم کا آغاز

کانگریس صدر راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور نگرانکار چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے تلنگانہ میں کانگریس کی انتخابی مہم کا عملاً آغاز کیا ہے۔ راہول نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی اور کے سی آر دونوں کرپشن میں ملوث ہیں۔ ضلع عادل آباد کے بھینسہ ٹاؤن میں ہفتہ کو ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہول نے نیا تلنگانہ تعمیر کرنے کا وعدہ کیا اور عوام سے کہا کہ بحیثیت چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پہلے پانچ سال کے قیمتی عرصہ کو ضائع کردیا ۔اس عرصہ میں کے سی آر، تلنگانہ کو خوابوں کی ریاست بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ میں واحد کے سی آر خاندان ہی تمام تر مراعات اور فوائد سے استفادہ کررہا ہے ۔ صرف کانگریس ہی واحد جماعت ہے جو کرپشن سے پاک تلنگانہ بناسکتی ہے اور ریاست کو کسانوں کی خودکشیوں سے پاک بنا سکتی ہے۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد اپنے پہلے دورہ کے دوران راہول گاندھی، پہلے بھینسہ پہنچے ۔ کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے کہا کہ بھینسہ کے اس جلسہ میں عوام کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اب مودی اور کے سی آر کے زوال کے گنتی کے دن باقی رہ گئے ہیں۔ عوام، ان دونوں کو باہر کا راستہ دکھانے کیلئے تیار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر نے کالیشورم پراجکٹ کا نام تبدیل کرتے ہوئے بی آر امبیڈکر کی توہین کی ہے ۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ آبپاشی پراجکٹوں کے ری ڈیزائننگ کے نام پر کے سی آر نے کرپشن تک رسائی حاصل کی اور اپنے دوستوں اور افراد خاندان کو اس سے فائدہ پہنچایا ۔ انہوںنے وعدہ کیا کہ کانگریس کے برسراقتدار آنے کے بعد ریاست میں کسانوں اور قبائیلیوں کی اراضیات کا تحفظ کیا جائے گا اور یو پی اے حکومت کی جانب سے وضع کردہ قانون کو موثر طور پر نافذ کیا جائے گا ۔ کے سی آر حکومت نے جن کسانوں اور قبائیلیوں سے زبردستی اراضیات حاصل کی ہیں، ان اراضیات کو دوبارہ سابق مالکان کے حوالے کیا جائے گا ۔ راہول نے وعدوں کی بارش کرتے ہوئے کہا کہ برسر اقتدار آنے پر کانگریس ، تلنگانہ کے کسانوں کے 2لاکھ روپے تک کے قرض کو معاف کرے گی اور بیروزگاروں کو فی کس ماہانہ 3ہزار روپے بھتہ دے گی۔ کے چندر شیکھر راؤ پر انتخابی وعدوں کو فراموش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے ہر خاندان کے ایک فرد کو روزگار فراہم کرنے کے وعدہ کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ڈبل بیڈرومس مکانات کی فراہمی کا وعدہ بھی برفدان کی نذر کردیا گیا اور ہر گھر کو پینے کے پانی کی سربراہی کا وعدہ بھی اب تک پورا نہیں کیا گیا۔صدر کانگریس نے مزید کہا کہ کے سی آر کی طرح نریندر مودی نے بھی عوام سے بلندوبانگ دعوے کئے تھے ۔ ہر شہری کے بینک اکاونٹس میں15لاکھ روپے جمع کرانے ، ہر سال2کروڑ نوکریاں فراہم کرنے اور کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت فراہم کرنے کا مودی نے وعدہ کیا تھامگر وزیر اعظم نے ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ۔ وزیر اعظم مودی، کانگریس پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ہم نے غریبوں کیلئے کچھ نہیں کیا ہے جبکہ راہول نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے منریگا لاتے ہوئے کئی لاکھ غریب خاندانوں کو اس سے مستفید کرایا ہے ۔ اور ان غریبوں کو غذا فراہم کی ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ’’ چوکیدار‘‘ کی طرح کام کریں گے مگر انہوںنے اس کی وضاحت نہیں کی تھی کہ وہ کس کی چوکیداری کریں گے ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ مودی، وجئے مالیا، نیرو مودی، میہول چوکسی ، للت مودی اور انیل امبانی جیسے افراد کی چوکیداری کررہے ہیں۔ رافیل معاملت پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ایچ اے ایل سے رافیل کنٹراکٹ چھین کر اس کنٹراکٹ کو انیل امبانی کے حوالے کیا اس طرح امبانی کو30ہزار کروڑ روپے کا فائدہ پہونچایا۔ اس طرح ہندوستان کے چوکیدار نے عوام کے پیسہ کا سرقہ کیا ۔ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ نریندر مودی نے مبینہ طور پر نفرتوں کا پرچار کیا ۔ انہوںنے عوام کو ایک دوسرے سے لڑایا، مودی نے مبینہ طور پر ایک ذات کو دوسرے ذات سے ایک مذہب سے دوسرے مذہب کو اور ایک علاقہ کو دوسرے علاقہ سے لڑانے کا ہی کام کیا ہے ۔ یو این آئی کے بموجب جلسہ سے این اتم کمارریڈی نے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عادل آباد کے 10، اسمبلی حلقوں سے کانگریس امیدوار کامیاب ہوں گے ۔ پردیش کانگریس کی انتخابی کمیٹی کے صدرنشین بھٹی وکراما رکہ اور دیگر نے خطاب کیا ۔ پارٹی کا انتخابی چہرہ وجئے شانتی، سابق وزرا ڈی کے ارونا اور سبیتا اندرا ریڈی اور مقامی کانگریس قائدین شریک جلسہ تھے ۔ قبل ازیں جلسہ گاہ میں آر سی کنتیا نے راہول کا خیر مقدم کیا ۔نمائندہ منصف بھینسہ کلیم خالد کے بموجب صدر کانگریس راہول گاندھی ناندیڑ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر1:40 بجے بھینسہ پہنچے ۔ پارڈی بائی پاس روڈ پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے مرکز کی نریندر مودی اور تلنگانہ کے سی آر حکومتوں کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور ان دونوں حکومتوں کو کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ۔ کے سی آر پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے ہر مسئلہ پر مرکز کی اندھی تائید کی ۔ جی ایس ٹی، نوٹ بندی جیسے تکلیف دہ فیصلوں کی بھی کے سی آر نے تائید کی ۔ نوٹ بندی کے ذریعہ پورے ملک کو قطار میں کھڑا کردیا گیا ۔ جی ایس ٹی نے چھوٹے کاروباریوں کی کمر توڑ کر رکھدی ہے ۔ 56انچ کے سینہ کا دعویٰ کرنے والے نریندر مودی، 15رائیس زادوں کے چوکیدار بن گئے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ تفرقہ پسند، اور غریبوں کے دشمن اور امیروں کے دوست نریندر مودی اور کے سی آر کو زبردست سبق سکھائیں ۔ مرکز اور ریاست میں کانگریس کو برسر اقتدار لائیں۔ این اتم کمار ریڈی نے کے سی آر کو بٹے باز قرار دیا اور مقامی رکن اسمبلی کو مفاد پرست بتایا۔ اور عوام سے مقامی ایم ایل اے کو سبق سکھانے کی اپیل کی ۔اس پروگرام سے ریونت ریڈی ،وینکٹ ریڈی ایم ایل سی ، پریم ناتھ ریڈی ،مہیشورریڈی ،بھارگودیش پانڈے ،رامیش راتھوڑ،سجاتا ،ساجدخان ، پریم ساگررائو ،نریش جادو ورکنگ صدر عادل آباد،رام چندر ریڈی ،سویم باپورائو،بی نارائن رائوپٹیل سابقہ رکن اسمبلی مدہول ،پی راما رائو پٹیل ٹی پی سی سی ممبر ،موہن رائو پٹیل سینئر کانگریس قائد ،بنڈاگنیش ،رام چندررائو ،جانا پرساد ریڈی کے علاوہ دیگر نے خطاب کرتے ہوئے ٹی آریس حکومت کو شدیدتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ۔بعدازاں راہول 2بجکر 55منٹ پر بھینسہ سے کاماریڈی کیلئے روانہ ہوگئے ۔ضلع ایس پی ششی دھر راجو ،ایڈیشنل ایس پی دکشنا مورتی کی نگرانی میں سخت صیانتی انتظامات دیکھے گئے ۔نمائندہ منصف کاماریڈی کے بموجب کانگریس ملک سے مذہبی منافرت کا خاتمہ چاہتی ہے ۔ صدر کل ہند کانگریس راہول گاندھی نے گورنمنٹ ڈگری کالج گراؤنڈ کا ماریڈی میں منعقدہ پارٹی کے ’’ پرجا گرجنا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ اس موقع پر قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر، صدر پردیش کانگریس اتم کمارریڈی بھی موجود تھے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس اقتدار حاصل کرتے ہی کسانوں کا2لاکھ روپے کا قرض معاف کردے گی ۔ اقتدار کے پہلے سال ہی ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کر ے گی ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی اور کے چندر شیکھر راؤ دونوں کرپٹ ہیں۔ تلنگانہ کیلئے جانوں کی قربانیاں دینے والوں کے ساتھ چندر شیکھر راؤ نے دغا بازی کی ہے۔ تلنگانہ میں ایک خاندان کا راج چل رہا ہے ۔ کے چند رشیکھر راؤ نے تلنگانہ کی عوام کو قرض میں کے دلدل میں ڈھکیل دیا ہے ۔ ریاست 2لاکھ کروڑ روپے کی مقروض ہوچکی ہے ۔ تلنگانہ کے ہر خاندان پر 2 لاکھ 60 ہزار روپے کا قرض ہے ۔ کے سی آر نے نظام شوگر فیاکٹری کے احیاء کیلئے کچھ نہیں کیا ۔آج بھی یہ فیاکٹری بند ہے ۔ اقتدار حاصل کرتے ہی کانگریس اندرون100یوم نظام شوگر فیاکٹری کا احیاء کرے گی ۔ انہوںنے ہلدی بورڈ قا ئم کرنے کا وعدہ کرکے کے چندر شیکھر اؤ نے تلنگانہ عوام کو دھوکہ دیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پراجیکٹ کے ری ڈیزائننگ میں ماہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ نے 3چیزوں پانی، فنڈ، اور نوکری کے نعرے کے ساتھ تلنگانہ تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا تلنگانہ عوام نے جو خواب دیکھاتھا وہ پورا نہیں ہوسکا ۔ انہوںنے کہا کہ عوام کو اگر سچے وعدے سننا ہے تو کانگریس کی میٹنگ میں آئیں اگرجھوٹے وعدے سننا ہے تو کے سی آر اور نریندر مودی کے جلسوں میں جائیں۔ اس موقع پر سکریٹری کانگریس محمد سلیم احمد، جانا ریڈی، طاہر بن حمدان، مدن موہن، جئے پال ریڈی ، پونالہ لکشمیا اور دیگر موجود تھے ۔

جواب چھوڑیں