چارمینارکے دامن میں سدبھائوناایوارڈ تقریب ۔صدرکانگریس راہول گاندھی کا خطاب

صدرکانگریس راہول گاندھی نے الزام عائد کیاکہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک میں نفرت پھیلانے اورملک کو تقسیم کرنے کا کام کررہے ہیں۔ ایک طرف وزیراعظم ہیں تو دوسری طرف ان کے کٹر فرقہ پرست حامی ہیں جو ملک میں نفرت پھیلارہے ہیں یہ سب ایک ساتھ ملکر ملک کو ٹکرے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی مدد ایم آئی ایم کررہی ہے ۔ راہول گاندھی نے ایم آئی ایم سے سوال کیاکہ وہ ان کی مددکیوں کررہی ہے ؟ مہاراشٹرایا بہار میں ایم آئی ایم ‘بی جے پی کی مددکررہی تھی ۔ کیونکہ ان کا نظریہ اورسونچ ایک ہی ہے کہ نفرت پھیلائو۔انہوںنے کہاکہ یہ ملک کسی ایک مذہب ذات پات یاایک مخصوص نظریہ کوماننے والوں کانہیں ہے ۔ یہ ملک تمام ہندوستانیوں کا ہے ۔ راہول گاندھی آج شام چارمینار کے دامن میں راجیوگاندھی سدبھائونا کمیٹی کی جانب سے منعقد29ویں سدبھاونایادگار جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ راہول گاندھی نے کہاکہ مہاتماگاندھی ‘پنڈت نہرو‘سردار پٹیل ‘ راجیوگاندھی ان سب نے ملک کومتحدرکھنے کا کام کیاہے ۔ انگریزوں سے جب لڑائی جارہی تھی تو سوال یہ نہیں تھاکہ کون ہندو ‘کون مسلمان ہے تمام لوگ متحدہوکر انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے تھے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے دستور میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیئے گئے ۔آج ہندوستان میں دو نظریات ماننے والوں کی لڑائی ہے ۔ ایک طرف وہ کھڑے ہیں جوملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں دوسری جانب ملک کو متحدرکھنے والے ہیں۔ آخرالذکر کانگریس پارٹی ہے ۔ راہول گاندھی نے کہاکہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں آرایس ایس کے بانی ویرساورکر کی تصویر لگائی ۔مگرجب انگریزوں کے خلاف جنگ میں مہاتماگاندھی ‘پنڈت نہرو اور دیگر تمام قائدین جیل میں تھے تب اس ویرساورکر نے انگریزوں کوایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ میں جنگ آزادی کی لڑائی سے علحدہ ہوناچاہتاہوں اور میں ہاتھ جوڑکر معافی چاہتاہوں مجھے جیل سے نکالا جائے ۔ جبکہ مہاتماگاندھی اورپنڈت نہرو ودیگر تمام مجاہدین نے ملک کی آزادی تک اپنی لڑائی جاری رکھی۔ آج وزیر اعظم نریندرمودی لال قلعہ کی فصیل سے تقریرکرتے ہوئے کہتے ہیں میرے اقتدارپرآنے سے پہلے ملک میں کچھ نہیں تھا۔ میرے آنے کے بعد ہی ملک ہر شعبہ میں ترقی کررہاہے ۔ ملک کی ترقی کانگریس کی نہیں بلکہ ملک کے عوام کی مرہون منت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مودی کے دور میں بینکوں سے کروڑہا روپے لے کر کئی لوگ ملک سے فرار ہوجاتے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہاکہ ساری دنیا کہتی ہے کہ نوٹ بندی بہت بڑی غلطی تھی اورپاگل پن تھا۔ مودی نے سارے ہندوستان کے عوام کو قطار میں کھڑا کردیا۔ غریب ‘مزدورمحنت کش عام آدمی سبکے سب لائن میںکھڑے تھے لیکن وجئے مالیا ‘ نیرو مودی ‘ میہول چوکسی ‘انیل امبانی لائن میں نظر نہیں آئے ۔ پارلیمنٹ میں وزیر عظیم کی مدد تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے کی ۔ وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے بہانے ہندوستان کے تمام چوروں کاکالادھن سفید کردیا۔ دہلی میں نریندر مودی اوریہاں کے سی آر اور ایم آئی ایم نے مددکی۔ تینوں نے ایک دوسرے کی مددکی۔ یہ نہیں چاہتے کہ سب لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوں۔ اگر تمام متحدہوجائیں تو انہیں کوئی نہیں پوچھے گا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے قیام کامقصدیہ تھا کہ ریاست کی نئے طریقہ سے ترقی ہو اور تمام لوگ امن وبھائی چارہ سے رہتے ہوئے ترقی کرسکیں۔ پراناشہرکے عوام کوچاہتے تھیکہ یہاں میٹرو ٹرین آئے گی اور اس علاقہ کی ترقی ہوگی ۔ 5سال گزرگئے لیکن میٹرولائن نہیں آئی ۔ اس کے برعکس 300کروڑ کی لاگت سے چیف منسٹر نے اپنامکان تعمیر کرلیا۔ تلنگانہ میں ایک ہی خاندان کی حکمرانی ہے ۔ مرکز میں نریندر مودی اور تلنگانہ میں کے سی آر کے خلاف جوبھی آواز بلندکرتا ہے اس کو منصوبہ طریقہ سے ہراساں کیا جاتاہے ۔ نریندرمودی نے کہاتھاکہ وہ ایک وزیر اعظم نہیں بلکہ ملک کے چوکیدار ہیں لیکن وزیر اعظم‘ انیل امبانی کی چوکیداری کررہے ہیں۔ ہندوستان کے ایرفورس کوجدید طیاروں کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے یوپی اے حکومت نے فرانس سے رافیل جٹ طیارے خریدنے کا فیصلہ کیاتھااور حکومت فرانس سے معاہدہ بھی کرلیاتھا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے انیل امبانی کے ہمراہ فرانس جاکر اس معاہدہ کومنسوخ کردیا اور 523کرور قیمت کے طیارے 1670کروڑروپے میں خریدنے کا معاہدہ کیااور ان طیاروں کی اسمبل کرنے کا کنٹراکٹ HAL کمپنی کی بجائے انیل امبانی کی کمپنی کودے دیا۔ جومعاہدہ سے صرف 15دن پہلے قائم ہوئی تھی۔ فرانس کے وزیر اعظم خودہندوستان کے وزیر اعظم کو چورکہہ رہے ہیں۔ اس طرح نریندر مودی نے انیل امبانی کی جیب میں 30ہزار کروڑ روپیہ ڈالدئے۔ 30ہزار کروڑ روپیہ سے حیدرآباد میں میٹروریل کے کام مکمل ہوسکتے تھے ۔ کسانوں کاقرض معاف ہوسکتاتھا۔ صدر کانگریس نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت آئے گی اور یہ عوام کی حکومت ہوگی ۔ تلنگانہ عوام کے خواب پورے ہوںگے ۔ قبل ازیں این اتم کمارریڈی نے کہاکہ وہ چارمینار سے متصل دواخانہ میں پیداہوئے ہیں۔ پرانا شہر ان کا پیدائشی مقام ہے ۔ انہوں نے نریندر مودی پرملک کوتقسیم کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ٹی آرایس نے صدرجمہوریہ اورنائب صدر کے انتخابات میں بی جے پی کی تائید کی ۔ نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے فیصلوں کی تائید کی ۔ کے سی آر ‘نریندرمودی کے ایجنٹ ہیں ۔ دہلی سے بی جے پی کوہٹاناہے توکانگریس کووٹ دے کر ٹی آرایس اوراس کی حلیف جماعت ایم آئی ایم کو شکست دیناہوگا۔ اس موقع پر راہول گاندھی نے سابق گورنرکے روشیاء کوان کی نمایاں خدمات پرسدبھائونایوارڈ عطا کیا۔ ابتداء میں سکریٹری سیدیوسف ہاشمی نے خیرمقدمی تقریر کی۔ چیرمین کمیٹی جی نرنجن نے سدبھاونا یادگارکمیٹی کی کارکردگی پر روشنی ڈالی ۔ وی ہنمنت رائو سابق ایم پی نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ میں انچارج کانگریس امور آرسی کنتیا‘بھٹی وکرامارکہ ‘ایم ششی دھر ریڈی‘ ایم مکیش گوڑ‘وششو وردھن ریڈی ‘ محمدغوث سابق کارپوریٹر ودیگر قائدین شہ نشین پر موجود تھے۔ اقلیتی قائدین سید نظام الدین ‘ محمد موسیٰ قاسم ‘ساجد شریف ‘سید سعادت حسین ‘افسر یوسف زئی ‘خواجہ غیاث الدین ‘جی کنہیالعل ودیگر قائدین بھی موجودتھے۔ ایم انجن یادو صدر گریٹرحیدرآباد کانگریس کمیٹی نے شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں راہول گاندھی کی آمد پر جیسے ہی مغرب کی اذاںکی آوازسنائی دی جلسہ کی کاروائی روکدی گئی۔

جواب چھوڑیں