افغانستان میں رائے دہی کے دوسرے دن بھی تشدد‘12 ہلاک

افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں سڑک کنارے ہونے والے ایک دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور چھ بچے بھی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ متاثرہ افراد ایک ویگن میں موجود تھے، جس کے نیچے یہ دھماکہ ہوا۔ افغانستان میں آج اتوار کے روز پارلیمانی الیکشن کے دوسرے دن پولنگ جاری ہے۔طالبان جنگجووں کے حملوں اور انتظامی رکاوٹوں کے باوجود 3 ملین افغان شہری کل ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے۔ افغانستان کے کئی حصوں میں آج دوسرے روز بھی ووٹنگ جاری ہے۔ افغانستان میں دوسرے دن بروز اتوار پولنگ کا عمل جاری ہے۔ پارلیمان کی نشستوں کے لیے جاری ان انتخابات کے پہلے دن تکنیکی اور انتظامی مسائل کے سبب بیشتر پولنگ اسٹیشن بند رہے تھے، جس کے سبب رائے دہی کے لیے ووٹرز کو ایک اور دن کی مہلت دی گئی۔ افغان طالبان کی دھمکیوں اور دارالحکومت کابل میں حملوں کے باوجود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہفتے بیس اکتوبر کو تین ملین افغان شہریوں نے ووٹ ڈالے۔افغان الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اتوار کے دن کْل 401 پولنگ اسٹیشنوں پر رائے دہی جاری رہیگی۔ یہ اسٹیشنز مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک کھلے رہیں گے۔ الیکشن کمیشن کے شکایات سے نمٹنے والے متعلق محکمے کے ترجمان علی رضا روحانی نے بتایا ہے کہ آزاد الیکشن کمیشن (IEC) پر کافی تنقید کی گئی کیوں کہ پولنگ اسٹیشنوں پر سست روی کے ساتھ کام ہوا اور انتظامات بھی کافی غیر مناسب تھے۔ایک مغربی سفارت کار نے طالبان کے حملوں کے خوف اور انتظامی مسائل کے باوجود انتخابات کے انعقاد کو افغان عوام کی کامیابی قرار دیا ہے۔ دریں اثناء ملک بھر میں الیکشن کے موقع پر تشدد کے مختلف واقعات میں 170 افراد ہلاک یا زخمی بھی ہوئے۔ ایک بڑا حملہ کابل کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ہوا، جب ایک خود کش بمبار نے اسٹیشن کے اندر خود کو اڑا لیا۔ اس حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور بیس دیگر زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں مختلف پولنگ مقامات پر 70راکٹ برسائے گئے۔افغان الیکشن میں رائے دہی کے لیے 9 ملین افراد رجسٹرڈ ہیں۔ 2001 میں طالبان کی حکومت گرائے جانے کے بعد یہ ملک میں ہونے والے تیسرے پارلیمانی انتخابات ہیں۔افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے دوسرے دن بھی عسکریت پسندوں نے پولنگ کے عمل کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا, بم دھماکے میں بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق تکنیکی مسائل اور دہشت گردی کے خطرات کے باوجود افغانستان میں دوسرے روز پارلیمانی انتخابات جاری ہیں۔آزاد الیکشن کمیشن (آئی ای سی) چیئرمین عبدالبدیع سیات کا کنہا ہے کہ 30 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز نے ہفتے کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جس میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کابل میں جبکہ سب سے کم ٹرن آؤٹ جنوبی صوبے ارزغان میں رہا ہے۔افغانستان کے 4 سو سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر اتوار 21 اکتوبر کو ووٹنگ کا عمل جاری رہے گا جس میں صرف کابل کے ہی 45 پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق اب تک افغانستان میں انتخابی عمل کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 200 ہوگئی ہے۔

جواب چھوڑیں