امریکہ ‘روس کے ساتھ جوہری معاہدہ سے دستبردار

امریکی صدر ٹرمپ نے روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کئی برس سے معاہدے پر عمل نہیں کررہا اس لئے معاہدہ معطل کررہے ہیں۔ڈونلڈٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ روس کئی برسوں سے معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے، ہم روس کو ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، انہوں نے سابق امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کہ صدر اوباما نے معاہدہ ختم کیوں نہیں کیا۔دوسری جانب روس نے امریکہ کی جانب سے ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا میں واحد عالمی سپر پاور بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ امریکہ کا واحد عالمی طاقت بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک تاریخی معاہدے سے دستبردار ہوجائے گا۔صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس نے 1987 کے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے۔روس نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ سے دستبردار ہوجائے گا۔صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس نے سنہ 1987 کے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدہ کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے۔معاہدہ کے تحت زمین سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر پابندی ہے۔ یہ فاصلہ 500 سے 5500 کلومیٹر ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی روس کو ان ’ہتھیاروں کی اجازت نہیں دے گا جبکہ ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے۔‘نویڈا میں ایک ریلی کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ صدر اومابا نے اس پر بات چیت کیوں نہیں کی یا اس سے کیوں نہیں نکلے۔ وہ بہت برسوں سے اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘ 2014 میں سابق صدر اوباما نے روس پر آئی این ایف کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا جب اس نے مبینہ طور پر زمین سے مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ براک اوباما نے مبینہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ یورپی رہنماؤں کے دباؤ پر کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے ایک ذرائع نے امریکہ کے ایک اقدام کو ’واحد قطبی دنیا کے خواب‘ کا شاخسانہ قرار دیا ہے جہاں صرف ایک ہی سپر پاور ہو۔امریکہ کا اصرار ہے کہ روسیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’نویٹر 9M729‘ نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تیار کیا ہے، جسے نیٹو میں ایس ایس سی 8 کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کی مدد سے روس نیٹو ممالک کو بہت کم وقت میں نشانہ بنانا کی قابل ہو سکتا ہے۔روس نے اس نئے میزائل کے بارے میں بہت کم بات کی ہے تاہم انھوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس ایسے ہتھیاروں کو روایتی ہتھیاروں کے سستے متبادل کے طور پر دیکھتا ہے۔روس کے نائب وزیر خارجہ سیرجئی ریابکوف نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے معاہدہ سے دستبرداری کی خواہش کو ایک ’خطرناک قدم‘ قرار دیا ہے۔ امریکی صدر نے کل کہا تھا کہ روس اس معاہدے کی کئی برسوں سے خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ کے لیے نئے ہتھیار بنانے میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے بقول اگر چین اور روس ہتھیاروں کی پیداوار روکنے پر ا?مادہ نہیں ہوتے تو امریکہ بھی جلد ہی نئے ہتھیار تیار کرنا شروع کرے گا۔معاہدے کے تحت زمین سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر پابندی ہے۔ یہ فاصلہ 500 سے 5500 کلومیٹر ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ روس کو ان ’’ہتھیاروں کی اجازت نہیں دے گا جبکہ ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے‘‘۔

جواب چھوڑیں