آئی سی سی نے ورلڈکپ کوالیفائی کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ ورلڈکپ، خواتین کرکٹ ورلڈکپ، ورلڈ ٹی 20 اور خواتین ورلڈ ٹی 20 میں کوالیفائی کرنے کا نیا سسٹم نافذ کردیا ہے۔ کرکٹ ورلڈکپ میں ٹیموں کی تعداد نہ بڑھانے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس طرح 2019 ورلڈکپ کی طرح 2023 ورلڈکپ میں بھی 10 ٹیمیں ورلڈ چمپئن بننے کی جنگ لڑیں گی۔ سنگا پور میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اجلاس میں مزید اہم فیصلے بھی کئے گئے جن میں امپائر پینل، فیوچر ٹور معاہدے، اینٹی کرپشن اور کمیٹیوں کی تشکیل جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس میں آئی سی سی مینس کرکٹ ورلڈکپ کوالیفکیشن کا نیا طریقہ منظور کرلیاہے۔ آئندہ سال 2019 سے 50 اوورز لیگ کا آسان طریقہ متعارف ہوگا جو ہندوستان میں ہونے والے 2023 کے ورلڈکپ کا ٹکٹ کٹوائے گا۔ اس دوران کرکٹ کے میاچس میں اضافہ اور کھلاڑیوں کی آمدنی میں بھی دگنا اضافہ ہوگا۔ 2 سے 3 سالہ کوالیفکیشن دورانیہ میں 372 ونڈے میاچس کھیلے جائیں گے۔ فل ممبرز پھر ٹاپ رینک ممبر اور پھر اسوسی ایٹ ممبر ممالک کیلئے 3 لیگ متعارف کرائی جائے گی۔ پہلی لیگ کا نام کرکٹ ورلڈکپ سوپر لیگ ہے جو مئی 2020 سے شروع ہوگی اور 2 سال جاری رہے گی۔ اس میں 13 ٹیمیں شامل ہوںگی۔ 12 ٹاپ فل ممبر کے ساتھ 13 ویں ٹیم ہالینڈ کی ہوگی ان کے درمیان اس دوران 156 میاچس کھیلے جائیں گے۔ ہر ٹیم کو 24 میچ ملیں گے۔ اس لیگ سے میزبان ملک کے ساتھ 7 ٹاپ ٹیمیں 2023 کے ورلڈکپ کیلئے براہ راست کوالیفائی کر جائیںگی۔ جولائی 2019 سے شروع ہونے والی کرکٹ ورلڈکپ لیگ ڈھائی سال جاری رہے گی۔ لیگ 2 کی ٹاپ 3 ٹیمیں کرکٹ ورلڈکپ کوالیفائر میں ہوںگی۔ آخری 4 ٹیمیں کرکٹ ورلڈکپ کوالیفائر پلے آف میں جائیںگی۔ ویمنس ورلڈکپ میں ٹیموں کی تعداد 10 ہوجائے گی۔ ورلڈ ٹی 20 مینس اور ویمنس کیلئے بھی نئے طریقہ لاگو ہوںگے۔ اجلاس میں امپائر پینل کیلئے بھی کمیٹی بنائی گئی ہے ۔

جواب چھوڑیں