بی جے پی تاریخ دوبارہ رقم کرنے کیلئے کوشاں: کانگریس

کانگریس کے ترجمان ابھیشک مانوسنگھوی نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکز پر الزام لگایاکہ وہ ہر مقد س موقع کو سیاسی آلہ کار کی حیثیت سے استعمال کررہی ہے۔ پارٹی تاریخ کو دوبارہ رقم کرنے شدت سے خواہاں ہیں۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے سبھاش چندربوس کے نام پر قومی ایوارڈ کے دوران بتایا تھاکہ وہ یہ ایوارڈ اُن پولیس ملازمین کو ہرسال دیں گے جو کسی بھی قسم کے آفات کے دوران بچائو اور راحت کاری کے سرگرمیوں میں کام کرتے ہوں۔ یہ اعلان سبھاش چندربوس کی جانب سے ہندوستان کی پہلی آزاد حکومت کے 21 اکتوبر1943 کو قیام کے بعد اِس کے اعلان کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا ہے۔ بی جے پی شدت سے اِس بات کی خواہاں ہے کہ تاریخ کو دوبارہ رقم کرے اور سردار پٹیل اور جواہر لال نہرو کے درمیان اور نیتاجی سبھاش چندربوس اور نہرو کے درمیان تصوری رقابت بھڑکائے جس نے اپنے سستے سیاسی حربوں کیلئے ہر مقدس موقع کا استعمال کیا ہے۔ اُنہوںنے بتایاکہ شیامالا پرساد مکرجی کے موسومہ اپنے مکتوب میں پٹیل نے بتایاکہ ہندومہاسبھا کی سرگرمیاں حکومت کے وجود کیلئے واضح خطرہ ہیں جبکہ اِس کی سرگرمیاں امتناع کے باوجود ختم نہیں ہوئی ہیں۔کانگریسی قائد نے بتایاکہ اِس کے برخلاف آر ایس ایس کے گرو ونائک دامودر ساورکر کی ہندومہاسبھا عوام پر زوردے رہی تھی کہ وہ برطانوی فوج میں بھرتی ہوجائیں۔ آر ایس ایس قائد ایم ایس گول والکر نے ملک کی سہ تاہی قوم پرستی سے برطانیہ کو نکال باہر کرنے کی ضرورت کی اپیل کی تھی۔ اُنہوںنے یہ بھی بتایاکہ نہرو آئی این اے کی قانونی کارروائیوں کے دوران بوس کے قانون داں تھے۔ اُنہوںنے بتایاکہ وزیر اعظم نریندرمودی ایک سیاسی اعلیٰ کار کی حیثیت سے ہر مقد س موقع کو کیوں استعمال کررہے ہیں۔ وزیر اعظم اور بی جے پی ہر قومی ورثہ کے تصرف بیجا کی بے تحاشہ کی کوشش کررہے ہیں۔ قبل ازیں موصولہ یواین آئی کے بموجب قومی تحریک میں حصہ لینے والے گاندھی۔ نہروخاندان سے الگ دیگر رہنماؤں کو اہمیت نہ دینے کے وزیراعظم نریندرمودی کے الزامات کو مستردکرتے ہوئے کانگریس نے اتوار کو کہاکہ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی )جنگ آزادی کی وراثت پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک سنگھوی نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ وزیراعظم لال قلعہ سے غلط بیانی کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیتاجی کے نعرے ’تم مجھے خون دومیں تمہیں آزادی دونگا‘ کو مودی نے بدلکر ’تم مجھے خون پسینہ دو ،میں تمہیں بھاشن دونگا‘کردیاہے۔ سنگھوی نے الزام لگایاکہ قومی تحریک میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریہ والوں کا کوئی تعاون نہیں رہاہے بلکہ کئی موقعوں پر انہوں نے ملک کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہوئے برطانوی حکومت کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہاکہ مودی قومی تحریک کی وراثت پر قبضہ کرناچاہتے ہیں اس لئے لیڈر سبھاش چندر بوس اور سردار ولبھ بھائی پٹیل اور قومی رہنماؤں کے ناموں کا استعمال غلط سیاق وسباق میں کررہے ہیں۔نیتاجی اور سردارپٹیل کے مسلم لیگ ،آر ایس ایس اور ہندومہاسبھا کے بارے میں تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہاکہ یہ رہنما ہم آہنگی اور مساوات میں یقین رکھتے تھے۔بی جے پی اور اسکے لیڈران ان قومی رہنماؤں کے نظریات کی نمائندگی نہیں کرتے۔ گاندھی۔ نہروخاندان سے الگ قومی رہنماؤں کی خدمات کو تسلیم نہ کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے سنگھوی نے کہاکہ پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے لال قلعہ کی فصیل سے اپنے پہلے خطاب میں نیتاجی کو یاد کیاتھا۔آزاد ہند کا مقدمہ پنڈت نہرو نے لڑاتھا۔سابق وزیراعظم اندراگاندھی نے 1975میں نیتاجی بین الاقوامی اجلاس کا انعقاد کیاتھا۔اس کے علاوہ کانگریس کے دورحکومت میں مورانگ میں نیتا جی اور آزادہند فوج سے متعلق میوزیم قائم کیاگیا۔انھوں نے کہاکہ نیتاجی نے 1938میں نیشنل پلاننگ کمیٹی تشکیل دی تھی جو آزادی کے بعد یوجنا آیوگ بنا۔لیکن مودی نے اس ادارے کو ختم کردیا۔ سنگھوی نے کہاکہ آزاد ہندفوج سے متعلق اس مبارک موقع کو مودی نے سیاسی اسٹیج بنادیا اور الزام تراشی پر اترآئے ۔ وزیراعظم کو ایسے مبارک موقع پر ایسی بیان بازی زیبانہیں دیتی۔ ایک سوال کے جواب میں کانگریس لیڈر نے کہاکہ مودی حکومت رام جنم بھومی پر مندر کی تعمیر کا مسئلہ ٹالنا چاہتی ہے۔اس لئے سنگھ کے توسط سے قانون بنانے کامطالبہ کرارہی ہے۔اس سے یہ معاملہ عدالت میں چلاجائیگا اور اسے دیگر معاملوں کے ساتھ منسلک کردیاجائیگا۔
جموں کشمیر میں مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں انتہائی کم ووٹنگ کو افسوسناک قراردیتے ہوئے مسٹر سنگھوی نے کہاکہ مرکزی حکومت ،ریاستی حکومت اور گورنر کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔

جواب چھوڑیں