جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانا میرے اختیار میں نہیں: گورنر ستیہ پال ملک

جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ ریاست میں اسمبلی کے انتخابات کرانا میرے حد اختیار میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن لے گی۔گورنر موصوف نے اتوار کو سری نگر کے مضافاتی علاقہ زیون میں واقع جموں وکشمیر آرمڈ پولیس کمپلیکس میں منعقدہ پولیس کے یادگاری دن کی پریڈ کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کی جانب سے ریاست میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا ’اسمبلی انتخابات کرانا میرے حد اختیار میں نہیں۔ اس پر کوئی فیصلہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کریں گے‘۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ ہم ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی اداروں کو زر کثیر فراہم کرکے ثابت کریں گے کہ یہ انتخابات لوگوں کے لئے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’کون میئر بنتا ہے اور کون نہیں بنتا ہے، وہ ہمارا مقصد نہیں۔ ہم اس سے لینا دینا نہیں۔ ہم مرکز اور ریاست سے میونسپلٹیوں اور پنچایتوں کو زیادہ سے زیادہ پیسے دیں گے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ یہ انتخابات آپ کے لئے تھے‘۔ انہوں نے کہا ’میں سب کا شکر گذار ہوں کہ یہ انتخابات کسی جان و مال کے نقصان کے بغیر اپنے اختتام کو پہنچے۔ ان انتخابات کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالے۔ پولنگ کے آخری دن سری نگر میں دس ہزار لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ایسا بھی ہوا جب ووٹ ڈالنے والوں پر پتھراؤ کیا گیا تو انہوں نے ردعمل میں واپس پتھراؤ کیا۔ پولیس کو پتھراؤ والے بچانے پڑے‘۔ گورنر ستیہ پال نے کہا کہ ریاستی گورنر انتظامیہ وادی میں زمینی سطح پر صورتحال ٹھیک کرنے کی لگاتار کوششیں کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’آہستہ آہستہ لوگ چیزوں کو سمجھ رہے ہیں۔ ہم زمینی سطح پر صورتحال ٹھیک کرنے کی بہت کوشش کررہے ہیں۔ وہ ہو بھی رہی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بہت فرق آیا ہے‘۔

جواب چھوڑیں