سال 2019 تک 1.25 لاکھ سپاہیوں کے تقرری کا عمل پورا ہوجائے گا:یوگی آدتیہ ناتھ

آئندہ سال کے اختتام تک تقریبا سوا لاکھ سپاہیوں کے تقری کے عمل کو پورا کرنے کا بھروسہ دلاتے ہوئے اتر پردیش کیوزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کو کہا کہ حکومت ریاست کی عوام کو پولیس کی بہتر سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ پولیس سپاہیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں اور اس کے لئے وہ پر عزم ہیں۔ یوگی نے یہاں پولیس لائن میں منعقد ایک پروگرام میں ڈیوڈی کے دوران اپنے جانوں کی قربانی دینے والے پولیس اہلکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت شہیدوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہے اور ان کے مفاد میں سبھی ضروری اقدام اٹھا رہی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت پولیس اہلکار کی کمی کو دور کرنے اور کام کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے تقرریوں میں تیزی لانے کے ضمن میں کام کر رہی ہے۔ سال 2019 کے ا?خر تک سپاہیوں کی پوسٹ پر تقریبا 1.25 لاکھ سپاہیوں کی تقرری ہونے سے محکمہ پولیس میں سپاہیوں کی کمی تقریبا ختم ہوجائے گی۔ اس کا سیدھا فائدہ عام عوام کو ہوگا کیونکہ تب لوگوں کو بہتر پولیس کی سہولیت دی جائے گی۔ ساتھ ہی، پولیس اہلکار کو چھٹیاں لینے میں موجودہ مسائل بھی نجات ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں اعلان شدہ نتائج کے مطابق 29303 پولیس سپاہی تربیت یافتہ ہیں جن میں 5341 خاتون سپاہی،20134 مرد سپاہی اور 3828 پی اے سی کو جوان بھی ہیں۔اس کے علاوہ42000 پولیس اہلکار کی تقرری کا عمل جاری ہے۔ اس میں اور تیزی لانے کے لئے اگلے مرحلے میں 51216 پولیس اہلکار کی تقرری کی جائے گی۔ یوگی نے کہا کہ ملازمت کیدوران بھی وقت وقت پر ٹریننگ کے سہولت کا انتظام کیا جا سکے گا۔ پولیس اہلکار بھی اپنے اہل خانہ کی بہتر دیکھ بھال کے لئے وقت نکال سکیں گے۔اور وہ کسی بھی تناو کے بغیر کام کر سکیں گے۔ پولیس اہلکار کے حوصلے کو بڑھانے کے لئے اور ان کو بہتر ماحول کی فراہمی کے لئے موجودہ حکومت نے پولیس اہلکار کو پرموشن دیا ہے اور اسی کڑی میں سال 2017 میں 9892 پولیس اہلکار کو اور سال 2018 میں کل 37575 پولیس اہلکار کو پروموشن دیا گیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔وزیر اعلی نے بتایا کہ موجودہ وقت میں ریاست میں صرف 5973 سپاہیوں کو تربیت دینے کے لئے تنظیمی ڈھانچہ دستیاب ہے۔ اس اہلیت کو دوگنا کرنے کے لئے حکومت پیسے کا انتظام کر کے اس کی صلاحیت میں اضافہ کے ساتھ سہولیات میں اضافہ کرائے گی۔ تربیت گاہوں کو مزید فروغ دینے کے لئے مرکز اوردیگر ریاستوں میں موجود تربیت گاہوں سے بھی تعاون لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع کے تھانوں میں بیرکوں کی کمی کی وجہ سے کئی پولیس اہلکارکو فیملی کوارٹر کی سہولت نہیں ہو پاتی ہے۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے حکومت پولیس لائن اور تھانوں میں سہولیات سے مزین بیروکوں کی تعمیر کیلئے رقم کا انتظام کرے گی۔ چنددلی، امروہہ، اوریہ، امیٹھی، شاملی، سمبھل اور ہاپوڑ میں پولیس لائن دستیاب نہیں ہے۔ ان اضلاع میں بھی پولیس لائن کے تعمیر کے لئے حکومت کے ذریعہ رقم فراہم کی جائیگی۔وزیر اعلی نے مزید کہا کہ پولیس سے متعلق مختلف پہلوؤں پر وقت وقت پر ریاستی حکومت کو اپنی سفارشات بھیجنے کے لئے تین اراکین پر مبنی ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی۔

جواب چھوڑیں