صدر عبداللہ یمین کی شکست برقرار‘ مالدیپ میں کئی ہفتوں کی سیاسی غیریقینی ختم

مالدیپ کی سپریم کورٹ نے کئی ہفتوں کی غیریقینی ختم کردی ۔ اس نے صدرعبداللہ یمین کی الیکشن منسوخ کرنے کی متنازعہ کوشش مستردکردی۔ عدالت نے اپوزیشن امیدوار کے ہاتھوں عبداللہ یمین کی شکست کو برقرار رکھا۔ دارالحکومت مالے میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن کارکنوں نے جشن منایا۔ عبداللہ یمین نے پانچ سال تک آہنی پنجے سے حکومت کی تھی۔ اپوزیشن قائد ماریہ دیدی نے کہا کہ عبداللہ یمین کو اب آسانی سے اقتدار حوالے کردیناچاہئیے۔ دیدی نے ٹوئٹر پر کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ عدالت نے عوام کے خطہ اعتماد کو برقرار رکھنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ عبداللہ یمین کومیعاد 17نومبر کو ختم ہوجائے گی۔ فروری میں صدریمین نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ایک اور جج کو یہ الزام عائد کرکے جیل بھیج دیاتھا کہ وہ ان کی حکومت کو بے دخل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صدریمین کی شکست کے بعد کئی بڑے سیاسی قیدی بشمول صدریمین کے سوتیلے بھائی مامون عبدالقیوم جیل سے رہا ہوچکے ہیں۔ مامون عبدالقیوم نے 30برس تک مالدیپ پر حکومت کی تھی۔ 2008ء تک وہ ملک کے سربراہ تھے۔ مالدیپ کی اعلیٰ ترین عدالت نے اتوار کے دن صدرعبداللہ یمین کی یہ درخواست خارج کردی کہ گذشتہ ماہ کے انتخابی نتائج منسوخ کردئیے جائیں اور تازہ الیکشن کرایاجائے۔ سپریم کورٹ نے صدر یمین کی شکست برقرار رکھی۔ پانچ رکنی بنچ نے متفقہ رولنگ دی کہ یمین اپنا یہ دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اپوزیشن امیدوار ابراہیم محمد صالح نے 23اکتوبر کو جس الیکشن میں جیت حاصل کی اس میں دھاندلی ہوئی تھی۔ بین الاقوامی دباؤ پر یمین نے ابتداء میں شکست مانی تھی اور کہاتھا کہ وہ 17نومبر کو صدارت چھوڑدیں گے لیکن جاریہ ماہ انہوں نے تحدیدات کی دھمکی کے باوجود درخواست داخل کی۔ یمین کا دعویٰ ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کے لئے جادوئی سیاہی استعمال کی گئی اور ان کے حق میں جو بیالٹ پڑے تھے وہ غائب ہوگئے۔ پانچ رکنی بنچ نے تین نامعلوم گواہوں کی یہ گواہی قبول کرنے سے پہلے ہی انکارکردیا کہ عبداللہ یمین کے وکلاء ثابت کریں گے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ ملک کے آزاد الیکشن کمیشن نے اپنے وکیلوں کے ذریعہ دلیل دی کہ عبداللہ یمین کے الزامات جھوٹے اور ان کی درخواست خارج کردی جائے۔ گذشتہ ہفتہ امریکہ ، یوروپ اور ہندوستان نے دھمکی دی تھی کہ عوام کا فیصلہ نہ ماناگیاتو مالدیپ پر تحدیدات عائد ہوسکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں