انٹرنیشنل کرکٹ میاچس میں درجنوں فکسنگ کا انکشاف

دبئی:2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اب ایک اور بڑا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آگیا ہے جس نے دنیائے کرکٹ کے مشہور کھلاڑیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس تہلکہ خیز خبر کے مطابق 12-2011 کے دوران 15 انٹرنیشنل کرکٹ میاچس میں 26 مرتبہ اسپاٹ فکسنگ کی گئی ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ نے انٹرنیشنل کرکٹ میں اعلیٰ درجے کی کرپشن کے شواہد پیش کئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 15 انٹرنیشنل میاچس میں 2 درجن سے زائد فکسنگ کے واقعات پیش ہوئے تھے۔ 2011 اور 2012 کے شواہد سے انگلینڈ کے چند کھلاڑیوں پر الزام عائد کیا گیا جنہوں نے 7 میاچس میں مبینہ اسپاٹ فکسنگ کی۔ اسی عرصہ میں آسٹریلوی کھلاڑیوں نے 5، پاکستانی کھلاڑیوں نے 3 جبکہ دیگر ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک میچ میں اسپاٹ فکسنگ کی جس میں دونوں ٹیم کی جانب سے فکسنگ کی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ ان اسپاٹ فکسنگ کے واقعات سے کھیل کا چند حصہ متاثر ہوا تھا اور اس سے نتائج نہیں جانے جاسکتے تھے۔ الجزیرہ کو میچ فکسر کی ہندوستانی بکیوں کو کی گئی فون کالز کی ریکارڈنگ موصول ہوئی۔ جن میاچس میں فکسنگ کی گئی تھی ان میں لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا ہندوستان بمقابلہ انگلینڈ ، کیپ ٹاؤن میں کھیلا گیا جنوبی افریقہ بمقابلہ آسٹریلیا اور یو اے ای میں انگلینڈ کی پاکستان کے ساتھ کھیلے گئے میاچس کی سیریز شامل ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انیل منور کی 26 میں سے 25 پیش گوئی درست ثابت ہوئیں۔ انیل منور کو کھلاڑیوں میں ہندوستانی کپتانی ویراٹ کوہلی کے قریب دیکھا گیا جس کی تصویر بھی الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں پیش کی تھی۔ دیگر کھلاڑیوں میں پاکستان کے عمر اکمل، آسٹریلوی ٹیم کے بولنگ کوچ اینڈی بکل، ہندوستانی کھلاڑی سریش رائنا، روہت شرما اور لکشمی پتی بالاجی بھی شامل ہیں ۔

جواب چھوڑیں