آسیہ بی بی کی بیرونِ ملک روانگی کی خبروں میں صداقت نہیں: ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے رہا کیے جانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ آسیہ بی بی کی ملتان جیل سے رہائی کے بعد ملک چھوڑنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔ ڈاکٹر محمد فیصل کا صحافیوں کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کی بیرونِ ملک روانگی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ اس سے قبل سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کوٹ کے 31 اکتوبر کے فیصلے کی روشنی میں سزائے موت معطل اور رہائی پانی والی آسیہ بی بی کو ملتان کی خواتین جیل سے رہا ہو نے کے بعد خصوصی طیارہ میں اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔ آسیہ بی بی، جن کی توہینِ مذہب کے الزامات سے رہائی کے فیصلہ سے ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کا احتجاج شروع ہو گیا تھا، کو لے جانے والا طیارہ راولپنڈی میں پاک فضائیہ کی نور خان ایئر بیس سے ملحقہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترا تھا۔ ایئرپورٹ پر اترتے ہی آسیہ بی بی کو سخت سیکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا، حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آمدو رفت کے تمام معاملات کو خفیہ رکھا۔ رہائی کے بعد آسیہ بی بی کو ملک میں ہی رکھا جائے گا یا بیرونِ ملک روانہ کردیا جائے گا معاملے کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے حکام اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔ خیال رہے کہ دو روز قبل اٹلی کی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان سے نکلنے میں آسیہ بی بی کی مدد کریں گے کیوں کہ توہینِ مذہب کے الزام کی وجہ سے 8 سال تک جیل میں رہنے والی مسیحی خاتون کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔آسیہ بی بی کے شوہرکا کہنا تھا کہ انہیں فیصلہ کی مخالفت کرنے والے افراد کی جانب سے قتل کیا جا سکتا ہے، اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ فیصلہ پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر ہو چکی ہے اس لیے امکان ہے کہ آسیہ کو بیرونِ ملک جانے نہ دیا جائے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے تمام بڑے شہروں کی سڑکیں بلاک کر کے تین دن تک احتجاج کیا تھا اور اس دوران فیصلہ دینے والے ججز، وزیر اعظم اور آرمی چیف کی سخت مذمت کی گئی تھی۔ بعد ازاں ٹی ایل پی نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے پر احتجاج ختم کردیا تھا جس میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آسیہ بی بی کو بیرونِ ملک جانے سے روکا جائے گا۔ دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو حکومت نے ہم سے کیا تھا۔ معاہدے کی رو سے اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ضروری ہے تاکہ وہ بیرون ملک نہ جاسکے۔ اس سے قبل خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو سرکاری اہل کاروں کے حوالے سے یہ خبر جاری کی کہ’’ آسیہ بی بی کو ایک دوسرے صوبے کے نامعلوم مقام سے رہا کرنے کے بعد سکیورٹی وجوہ کی بنا پر اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے‘‘۔ایک اہل کار نے بتایا کہ سیکیورٹی کے سخت حصار میں آسیہ بی بی کو ہوائی جہاز کے ذریعے دارالحکومت لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ جانے والی سڑک کی سکیورٹی‘ فوج نے سنبھال رکھی تھی۔آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر کو توہین مذہب کے مقدمہ میں بری کر کے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد’ تحریک لبیک‘ نے فیصلے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا اور مختلف شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ہنگامہ ختم کرانے کے لیے حکومت نے’ تحریک لبیک‘سے جو معاہدہ کیا، اس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ آسیہ بی بی کا نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں ڈالا جائے گا۔ بعد میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی سے منسوب یہ بیان سامنے آیا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا رہا۔آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک جان کو لاحق خطرے کی وجہ سے پہلے ہی بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ آسیہ بی بی پر توہین مذہب کا الزام جون 2009ء میں لگایا گیا تھا۔ ایک سال بعد انھیں ایک عدالت نے سزائے موت سنائی اور لاہور ہائیکورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے ان کی اپیل کی سماعت کے بعد انھیں بری کر کے رہا کرنے کا حکم دیا۔

جواب چھوڑیں