ایک لاکھ کروڑ روپے جاری کرنے مرکزی بینک سے حکومت کا مطالبہ تشویشناک: پی چدمبرم

آر بی آئی پر قبضہ جمانے کی کوششوں پر نریندر مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس قائد اور سابق مرکزی وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج کہا کہ ان واقعات کے تسلسل سے ملک کے سب سے بڑے بینک کی ساکھ اور اعتبار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ چدمبرم نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے مایوسی کے عالم میں آر بی آئی کے ذخائر سے ایک لاکھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ انتخابی سال میں مصارف میں اضافہ کرنے اسے مزید رقم درکار ہے اور اس کے لئے دیگر تمام راستے بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت 2018-19 میں 3.3 فیصد کے مالی خسارہ کے نشانہ کی تکمیل نہیں کرپائے گی۔ علاوہ ازیں حکومت انتخابی سال میں مصارف میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ چدمبرم نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دیگر تمام راستے بندپاتے ہوئے مایوسی کے عالم میں حکومت نے آر بی آئی کے ذخائر سے ایک لاکھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب آر بی آئی گورنر (اُرجیت پٹیل) نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو حکومت نے آر بی آئی ایکٹ کی دفعہ 7 کے استعمال کا غیرمعمولی اور غیرمتوقع قدم اٹھایا ۔ اگر گورنر اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ قائم رہیں گے‘ تو حکومت دفعہ 7 کے تحت آر بی آئی کو یہ ہدایت جاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے کہ وہ حکومت کے کھاتہ میں ایک لاکھ کروڑ روپے منتقل کرے۔ اس صورت میں گورنر کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے ۔ یا تو وہ رقم منتقل کریں یا پھر مستعفی ہوجائیں۔ میرے خیال میں گورنر جو بھی راستہ اختیار کریں اس سے آر بی آئی کی ساکھ اور اعتبار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوگا کہ آر بی آئی پر حکومت کا قبضہ ہوچکا ہے۔ ایک اور اہم ادارہ بے توقیر ہوجائے گی۔ چدمبرم نے کہا کہ 19 نومبر فیصلہ کا دن ہوگا کیونکہ اُس دن آر بی آئی بورڈ کی میٹنگ مقرر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے آر بی آئی بورڈ میں اپنے چنندہ افراد کا تقرر کیا ہے اور بورڈ کے اجلاس میں اپنی تجویز کو منظور کرانے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے نوٹ بندی کے 2سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا کہ نوٹ بندی کے نتائج تباہ کن رہے۔ ہم انتظار کریں گے اوردیکھیں گے کہ آیا 19 نومبر کو ایک اور تباہی نازل ہوتی ہے۔ چدمبرم نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت آر بی آئی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت آر بی آئی کو کوئی ہدایت جاری کرتی ہے تو اس کے نتیجہ میں تباہی آئے گی۔ یہ حکومت نہیں جانتی کہ اس کے کتنے تباہ کن نتائج ہوں گے۔ اگرآر بی آئی ‘ حکومت کی بات مان لیتی ہے یا بات نہیں مانتی یا پھر گورنر مستعفی ہوجاتے ہیں تو دونوں صورتوں میں نتائج تباہ کن ہوں گے۔ چدمبرم نے امید ظاہر کی کہ آج سے لے کر 19 نومبر تک کوئی دانشمندانہ فیصلہ کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں