نوٹ بندی ‘ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکام : راہول گاندھی

صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کرنے کے فیصلہ کو ’’ظالمانہ سازش‘‘ قراردیا اور کہا کہ یہ دراصل وزیراعظم نریندر مودی کے سوٹ بوٹ پہننے والے دوستوں کے کالے دھن کو سفید کرنے کی اسکیم تھی۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں راہول نے کہا کہ نوٹ بندی ایک ظالمانہ سازش تھی اور کافی غورو خوض کے بعد اسے عملی جامہ پہنایا گیا۔ یہ اسکام وزیراعظم کے سوٹ بوٹ زیب تن کرنے والے دوستوں کے کالے دھن کو سفید میں تبدیل کرنے کی ایک اسکیم تھی۔ اس اسکیم میں کوئی معصومیت نہیں تھی۔ اس کا کوئی اور مطلب نکالنا قوم کی ذہانت کی توہین ہوگی۔ وزیر فینانس نے اپنے ایک بلاگ میں نوٹ بندی کے حکومت کے فیصلہ کا دفاع کیا جس کے بعد صدر کانگریس نے اپنا یہ بیان پوسٹ کیا۔ آئی اے این ایس کے بموجب 2016 میں نوٹ بندی کا قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستان کے ہر شہری کو تباہی سے دوچار کردینے پر اپوزیشن نے آج وزیراعظم نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے دوسرے سال کی تکمیل کے موقع پر کانگریس نے اسے جمہوریت اور قومی معیشت کے لئے یوم سیاہ قراردیا جبکہ سی پی آئی ایم نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا اسکام قراردیا۔ کانگریس نے ٹویٹر پر کہا کہ وزیراعظم مودی کے چند سرمایہ دار دوستوں کے سوائے اس ملک کے ہر شہری کو نوٹ بندی کی قیمت چکانی پڑی اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ نوٹ بندی ہماری جمہوریت اور ہماری معیشت کے لئے یوم سیاہ تھا۔ سینئر کانگریس قائد اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ اپنی معاشی پالیسیوں میں شفافیت اور یقینی کیفیت بحال کرے۔ سابق وزیر فینانس نے اپنے ایک بیان میں موجودہ این ڈی اے حکومت سے کہا کہ وہ مزید غیرروایتی اور مختصر مدتی معاشی اقدامات سے گریز کرے جن کی وجہ سے معیشت اور مالیاتی بازاروں میں مزید غیریقینی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ منموہن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نوٹ بندی سے بلالحاظ عمر ‘ صنف ‘ مذہب ‘ پیشہ اور ذات پات ‘ ہر شخص متاثر ہوا۔ یوپی اے کے ایک اور سابق وزیر آنند شرما نے جاننا چاہا کہ آیا مودی ‘ معیشت ‘ ملازمتوں اور زندگیوں کو تباہ کرنے پر معافی مانگیں گے؟۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے عوام ‘ وزیراعظم نریندر مودی کے ہماری کرنسی کے 86 فیصد حصہ کو منسوخ کرنے کے غیرحساس اور اندھادھند فیصلہ کے درد اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی مشکلات کو یاد کرتے ہیں۔ 99 فیصد کرنسی آر بی آئی میں واپس آچکی ہے تو کیا وزیراعظم مودی کالے دھن کو جرائم ‘ کرپشن اور دہشت گردی کے لئے استعمال کئے جانے کے الزام پر معافی مانگیں گے؟ کیا وہ ہماری معیشت ‘ ملازمتوں اور زندگیوں کو تباہی سے دوچار کرنے پر معذرت خواہی کریں گے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے ناقابل معافی اور مطلق العنان فیصلہ کے 2 برس بعد مودی کو ریزرو بینک آف انڈیا کے ذخائر سے مزید 3 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے درکار ہیں۔ اس کی مزاحمت کی جانی چاہئے۔ سی پی آئی ایم نے 8 نومبر 2016 کی یاد تازہ کرتے ہوئے اسے ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکام قراردیا جب مودی نے نوٹ بندی کے ذریعہ ہماری معیشت پر تباہی لائی۔ سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے معیشت‘ زندگیوں اور روزگار کو تباہ کرنے کے لئے مودی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور ان کے منظور نظر افراد نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نوٹ بندی کے سبب کالے دھن کا خاتمہ ہوجائے گا‘ کرپشن ختم ہوجائے گا‘ دہشت گردی بند ہوجائے گی اور صرف ڈیجیٹل لین دین لایا جائے گا۔ 2 سال بعد مودی خاموش ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے تن ِ تنہا معیشت‘ زندگیوں اور روزگار کو تباہ کردیا۔ عام آدمی پارٹی سربراہ اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے بھی نوٹ بندی کو ہندوستانی معیشت پر گہرا زخم قراردیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ مودی حکومت کے مالیاتی اسکامس کی فہرست لامتناہی ہے۔ نوٹ بندی ‘ ہندوستانی معیشت پر اپنے ہاتھوں لگایا گیا ایک گہرا زخم ہے جو 2 سال بعد بھی ایک راز بنا ہوا ہے کہ آخر ملک کو ایسی تباہی میں کیوں ڈھکیلا گیا۔ لوک تانترک جنتادل کے لیڈر شردیادو نے بھی بے روزگاری میں اضافہ پر مرکز کو نشانہ تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر ہندوستانی شہری یہ سمجھ چکا ہے کہ یہ کوئی تاریخی غلطی نہیں تھی جس سے ہر گھر تباہ ہوا بلکہ یہ فیصلہ بی جے پی کے چند سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر ہی لیا گیا تھا۔ اس حکومت نے عملاً تمام کاروباروں کو ختم کردیا اور بے روزگاری میں اضافہ کردیا۔چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے اسے یوم سیاہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ جس لمحہ اس کا اعلان کیا گیا تھا ‘ میں نے یہ بات کہہ دی تھی۔ ممتاز ماہرین معاشیات ‘ عوام اور تمام ماہرین اب اس سے اتفاق کررہے ہیں۔ حکومت نے نوٹ بندی کے اس بڑے اسکام سے ہمارے ملک کو دھوکہ دیا۔ اس نے معیشت اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو تباہ کردیا۔ لوگ ایسا کرنے والوں کو سزا دیں گے۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ مودی نے ایک ایسے اقدام میں جس سے سب حیرت زدہ رہ گئے تھے‘ 2016 میں آج ہی کے دن 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جواب چھوڑیں