پیرس میں پوٹین۔ٹرمپ ملاقات کا امکان نہیں

صدرامریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایاکہ اس کے منصوبہ بند دورہ پیرس کے موقع دیگر کے ہمراہ وہ روسی صدر ولادیمیرپوٹین کے ساتھ لنچ میں شرکت کریں گے تاہم دونوں قائدین کے درمیان ملاقات کی کوئی توقع نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایاکہ امکان ہے کہ وہ آئندہ سال کے اوائل شمالی کوریائی قائد کم جانگ اُن سے بھی ملاقات کریں گے۔ ژنہوا کی رپورٹ میں ٹرمپ کے حوالہ سے بتایاگیا کہ ہم لنچ میں شریک ہوں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ وہاں دیگر بہت سے لوگ بھی موجود رہیں گے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کل یہ بات بتائی۔ ان سے یہ سوال کیاگیاتھا کہ آیا وہ پیرس میں پوٹین سے ملاقات کریں گے جہاں توقع ہے کہ 60 سے زائد قائدین پہلی جنگ کے اختتام کی 100 ویں سالگرہ تقریب کی یادگار منانے کے لئے اتوار کو موجود رہیں گے۔ ٹرمپ نے بتایاکہ وہ باورکرتے ہیں کہ پیرس میں کسی بھی قسم کا کوئی شیڈول ملاقات کا نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایاکہ وہ باورکرتے ہیں کہ وہاں مختصر قیام کی وجہ سے کسی بھی قسم کی میٹنگ کے وقت کا تعین نہیں کیاجائے گا۔ چہارشنبہ کو کریملین نے اعلان کیاتھا کہ پوٹین اور ٹرمپ ایلیسی پیالیس میں مختصرکارگذار لنچ کے موقع پر ملاقات کریں گے جبکہ توقع ہے کہ ارجنٹائن میں اس ماہ کے اواخر G20 ممالک کے گروپ پر مشتمل چوٹی کانفرنس کے موقع پر دونوں قائدین وسیع تر اور جامع مذاکرات منعقد کریں گے۔ ٹرمپ نے بتایاکہ انہیں توقع ہے کہ وہ آئندہ سال کے اوائل کسی بھی وقت کم جانگ اُن سے دوبارہ ملاقات کریں گے لیکن انہوں نے اس بات پرزوردیاکہ ان کے سرکردہ سفارتکار اور شمالی کوریاکے سینئر قاصد کے درمیان مذاکرات کے التواء کے بعد اس معاملہ میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ وہ باورکرتے ہیں کہ ملاقات بہت ہی اچھی ہوگی اور ہمیں کوئی عجلت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات باہمی جاری مذاکرات پربتائی۔ اس سے ایک قبل امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اس بات کا اعلان کیاکہ دونوں کے درمیان مقررہ اعلیٰ سطحی میٹنگ ملتوی کردی گئی ہے۔ نیویارک میں وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور حکمراں ورکرس پارٹی آف کوریا (ڈبلیو پی کے )سنٹرل کمیٹی کے نائب صدرنشین کم یانگ چول کے درمیان آج ملاقات ہوگی۔ ہم محکمہ کی ترجمان ہیٹرنیورٹ نے کل جاری کردہ بیان میں بتایاکہ ہم کسی بات کی تاریخ کا تعین کریں گے۔ پومپیو نے خود اتوار کے انٹرویو میں بتایاتھا کہ انہیں توقع ہے کہ کِم کے ساتھ مذاکرات میں کسی قدر حقیقی پیشرفت ہوگی جس میں دونوں قائدین کے درمیان چوٹی کانفرنس کو یقینی بنانے کی کوشش بھی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں