ڈیموکریٹس کے پیسے کی چمک اور ابلاغی مہم کے باوجود ’فتح‘ ہماری ہوئی:ٹرمپ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے کانگریس کے ایوان زیریں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد کہا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے مزید کہا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا تو وہ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی نے بھی کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس انتظامیہ کی نگرانی نہ کریں۔چہارشنبہ کو ہونے والی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی سے کہا کہ وہ قانونی کاروائی میں ساتھ کام کریں اور انفراسٹرکچر، تجارت اور صحت کے معاملات میں ساتھ چلیں۔ لیکن انھوں نے مزید کہا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے خلاف قانونی جنگ کا عمل شروع کیا تو وہ اور رپبلکن پارٹی خاموش نہیں رہیں گے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوان نمائندگان میں جیت کے بعد توقع ہے کہ نینسی پیلوسی اسپیکر کا عہدہ سنبھالیں گی۔ انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ صدر کے ساتھ مفاہمت چاہتی ہیں لیکن ان کی جماعت اپنا موقف نہیں بدلے گی۔ صدر ٹرمپ نے انتخابات کے نتائج کو اپنی ٹویٹ میں ‘شاندار کامیابی’ قرار دیا تھا اور کہا کہ ان کی جماعت نے سینیٹ میں اپنی اکثریت کو بہتر بنا کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انھوں نے اپنی جماعت کے ان ممبران کا بھی مذاق اڑایا جنھوں نے صدر ٹرمپ کی کھل کر حمایت نہیں کی اور انتخابات میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ سے پریس کانفرنس میں بحث کرنے کے بعد نیوز چینل سی این این کے نمائندے جم اکوسٹا کا صحافتی اجازت نامہ معطل کر دیا۔ پریس کانفرنس میں صحافی نے صدر ٹرمپ سے وسطی امریکہ سے چلنے والے تارکین وطن کے قافلے کے بارے میں سوال کیا جس پر صدر نے ان کو کہا کہ وہ بہت برے اور بدتمیز شخص ہیں اور وہ مائیک چھوڑ دیں۔ وائٹ ہاؤس کی ایک اہلکار نے صحافی سے مائیک لینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ صحافی جم اکوسٹا کا اجازت نامہ معطل کرنے کی وجہ ان کے سوالات نہیں بلکہ ‘اس نوجوان لڑکی کو ہاتھ لگانا تھا۔’انھوں نے ٹویٹ میں کہا:’ ہم بالکل بھی برداشت نہیں کریں گے کہ ایک رپورٹر نے وائٹ ہاؤس کی اہلکار کو ہاتھ لگایا جو صرف اپنا کام کر رہی ہے۔ ہم اس واقعہ کے بعد رپورٹر کا اجازت نامہ معطل کر رہے ہیں۔’صحافی جم اکوسٹا نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ امریکی خفیہ سروس نے انھیں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں اپنی شاندار کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کے پیسے کی چمک اور ابلاغی مہم کے باوجود انتخابات میں ہم نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دوسری جانب ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی نے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ آٹھ سال بعد ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ نے چہارشنبہ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’اگر ڈیموکریٹک رہنماؤں کو لگتا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرنے والوں کا پیسہ ہماری ایوان میں تحقیقات کرنے میں ضائع کر سکتے ہیں تو اسی طرح ہمیں بھی خفیہ معلومات لیک کرنے کے معاملے میں انکی تحقیقات سینیٹ میں کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہ کھیل دو طرفہ ہو سکتا ہے۔‘ صدارتی انتخاب 2020 میں ہونے ہیں لیکن ان وسط مدتی انتخابات کو ان کی صدارت کے دو سال پر ’ریفرینڈم‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چہارشنبہ کی صبح ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہیں امریکہ کے طول و عرض اور بیرون ممالک سے حمایتیوں کی جانب سے مبارکبادیں موصول ہو رہی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا اشارہ کن ممالک کی جانب تھا۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت کے بعد وہ اب اس قابل ہو گئے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے قانونی اصلاحات کے ایجنڈے کو روک سکتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، ٹیکس اور مفادات کے ٹکراؤ کی تحقیقات کروا سکیں گے۔ وہ ان کے مختلف منصوبوں میں بھی رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، جیسا کہ میکسیکو کے گرد دیوار تعمیر کروانا۔ توقع ہے کہ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی اسپیکر بنیں گی۔ وہ 2007 سے 2011 تک اس عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ انھوں نے واشنگٹن میں اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا: ’آپ لوگوں کی مہربانی کی وجہ سے کل امریکہ میں ایک نئے دن کا آغاز ہو گا۔‘ ڈیموکریٹس نے کانگریس کے ایوانِ زیریں میں اکثریت کے لیے درکار 23 سے زیادہ نشستیں حاصل کر لی ہیں۔ امریکہ میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 سیٹوں پر انتخابات تھے اور ان میں خواتین امیدواروں نے خاص طور پر بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ کئی ماہرین نے ان انتخابات کو خواتین کا سال قرار دیا ہے۔

جواب چھوڑیں