اطالوی قانون سازوں کی آسیہ بی بی کے تحفظ کی تائید

 اطالوی پارلیمنٹ نے پاکستانی کرسچین خاتون جو توہین رسالتؐ کے الزام سے بری اور رہا کردی گئی اس کی اور اس کے خاندان کے تحفظ کی تائید کی ہے۔ اٹلی کے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کی بیرونی معاملات کی کمیٹی نے بہ اتفاق آراء ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں آسیہ بی بی کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اطالوی پارلیمنٹ نے اس قرارداد کی تائید کرتے ہوئے بین الاقوامی کوششوں کیلئے اپنی تائید کی جہاں عکاسی کی ہے وہیںاس نے اٹلی کی حکومت کی جانب سے اس واقعہ کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی بابت اس کے سنجیدہ اور تعمیری وعدہ پر اسے توجہ دلائی ہے۔ کمیٹی کی صدرنشین مارٹاگرانڈے نے یہ بات بتائی۔ سزائے موت کے کیس میں آٹھ سال بعد سپریم کورٹ کی جانب سے پچھلے ہفتہ توہین رسالتؐ کے الزام سے آسیہ بی بی کی برات کے بعد جمعرات کو انہیں ملتان (پاکستان) کی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ آسیہ بی بی کے شوہر مسیح نے کہا تھا کہ ان کی فیملی کو اسلام پسندوں سے خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے پناہ کی درخواست کی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ کئی مغربی ممالک آسیہ بی بی کی فیملی کو پناہ دینے کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسیح نے اطالوی حکومت سے مدد چاہی ہے۔

جواب چھوڑیں