افغانستان کے مسائل پر بین الاقوامی اجلاس‘ روس میزبان

روس نے آج ایک کانفرنس کی میزبانی افغانستان کیلئے کی تاکہ طالبان کے ساتھ حالات کو راست مذاکرات کیلئے حالات کو سازگار بنایا جاسکے جن کے نمائندے بھی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں شریک تھے جس میں پہلی مرتبہ ہندوستان نے بھی شرکت کی۔ ہم اس بات کا عزم کرچکے ہیں کہ افغانستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کو کھولا جائے تاکہ امکانی طورپر حالات کو سازگار بنایا جاسکے۔ روسی وزیر خارجہ سرجیولاروف نے دوسری ماسکو میٹنگ برائے افغانستان کا افتتاح کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ روس اور علاقہ کے دیگر ممالک افغانستان کی حکومت اور طالبان سے مذاکرات کے آغاز کیلئے ہر ممکنہ کوشش کریں گے۔ سرکاری خبررساں تاس ایجنسی نے یہ اطلاع دی۔ حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے لائوروف نے کہا کانفرنس کا مقصد افغانستان کے تعلق سے مذاکرات شروع کئے جائیں تاکہ قومی مصالحتی عمل کو پیشگی بنایا جاسکے۔ خطہ کے تمام ممالک اور بین الاقوامی برادری اس بات کو دیکھنا پسند کرے گی کہ افغانستان پُر امن اور آزاد رہے اور وہ خوشحال ملک بن جائے ۔ علاوہ ازیں دہشت گردی اور منشیات کی ناجائز منتقلی سے بھی پاک ہوجائے۔ لائوروف نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کو سیاسی طورپر ہی حل کیا جاسکتا ہے اور کہا کہ ہم افغان ہائی پیس کونسل اور طالبان تحریک کے وفود کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لائوروف نے کہا کہ آج کے ایونٹ میں ان کی شرکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان راست مذاکرات کیلئے حالات وضع کئے جاسکیں اور عوام اور سیاسی حلقوں میں بھی اس کا اثر ظاہر ہوگا۔ انہوں نے داعش گروپ کی جانب سے افغانستان کو درپیش خطرہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ گروپ کا انحصار غیر ملکی اسپانسرس پر ہے کہ افغانستان کو وسطی ایشیاء میں اسپرنگ بورڈکے طورپر توسیع دی جائے۔ ماسکو میں امریکی سفارتخانہ نے ایک سفارتکار کو بھیجا ہے تاکہ جمعہ کے دن ہونے والے مذاکرات کا مشاہدہ کیا جائے جس میں افغانستان‘ ہندوستان‘ ایران‘ چین‘ پاکستان اور دیگر ممالک کے نمائندے بھی حصہ لے رہے ہیں۔ جمعرات کو ہندوستان نے کہا تھا کہ وہ افغانستان کیلئے ہونے والی غیر سرکاری سطح کی ماسکو میں ہونے والی میٹنگ میں حصہ لے گا۔ ہندوستان کے سابق سفیر برائے افغانستان امر سنہا اور سابق ہندوستانی ہائی کمشنر برائے پاکستان ٹی سی اے راگھون‘ نئی دہلی کی ماسکو میٹنگ میں نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی مسلسل یہ پالیسی رہی ہے کہ افغانستان کے زیر قیادت افغان کی جانب سے ہی امن مذاکرات ہونے چاہیئے اور افغان کنٹرول والے علاقہ کے لوگ حکومت افغانستان میں حصہ دار رہیں۔ اس قسم کی میٹنگ کی تجویز جاریہ سال 4ستمبر کو پیش کی گئی تھی جسے لمحہ آخر اس وقت ملتوی کردیا گیا جب افغان حکومت نے اس سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ ماسکو کانفرنس ایک ماہ کے بعد اس وقت منعقد ہوئی جب طالبان نے امریکہ کے خصوصی نمائندہ زیمی خلیل زادہ کے ساتھ بات چیت کی تھی جنہیں یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ افغانستان کے مسئلہ کا بات چیت کے ذریعہ حل تلاش کیا جائے جہاں آئے دن خون خرابہ جاری ہے۔ قطر میں طالبان اپنے سیاسی دفتر میں یہ بات کہی۔ طالبان کے سیاسی سربراہ عباس استناک زئی کے زیر قیادت پانچ رکنی وفد نے خلیل زادہ سے پُر امن معاہدہ کیلئے راستے تلاش کئے تاکہ افغانستان میں سکون قائم ہوسکے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں یہ بات کہی۔ جمعرات کو پاکستان نے کہا تھا کہ افغان طالبان کے سابق ڈپٹی چیف ملا عبدالغنی برادر کو جیل سے امریکہ کی درخواست پر رہا کردیا گیا جو کہ جنگ زدہ ملک میں سیاسی یکسوئی کو ترغیب دی جاسکے۔ برادر‘ جو افغان چار اعلیٰ کمانڈر میں سے ایک ہے جنہوں نے افغانستان میں طالبان کا قیام 1994میں عمل میں لایا تھا۔ 2010سے تحویل میں تھے انہیں پاکستانی حکام نے تلاشی مہم کے دوران گرفتار کرلیا تھا۔ انہیں آزاد کرنے کا فیصلہ امریکی سفیر برائے افغان مصالحت خلیل زاد کے دورہ کے بعد کیا گیا۔ اسی خطے میں طالبان کے نمائندوں سے دوحہ۔قطر میں بھی میٹنگ ہوئی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بھی امریکہ کی طویل ترین جنگ بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کا خواہاں ہے جس کیلئے کوششوں کو تیز کردیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں