امریکی کانگریس میں خواتین کی ریکارڈ تعداد‘ اقوام متحدہ کا اظہار ستائش

اقوام متحدہ میں صنفی مساوات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ نے خواتین کی ریکارڈ تعداد میں امریکی کانگریس کیلئے مقابلہ کرنے کی پُر زور ستائش کی اور امریکہ کے کانگریسی انتخابات جاریہ ہفتہ نازک قرار دیا گیا ہے جس میں صنفی مساوات اور جاری رکھنے والی ترقی کے مطابق ہے۔ نام نہاد وسط مدتی انتخابات برائے امریکی ایوان نمائندگان اور سنیٹ جن میں دونوں بڑی پارٹیوں کے 277خواتین نے حصہ لیا جن میں ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن شامل ہیں۔ ان کی جانب سے تمام عمروں کی نمائندگی کی گئی جن میں مذہب‘ جنسی امتیاز کا پس منظر اور ثقافت کو مد نظر رکھا گیا۔ یہ بات ایک بیان میں بتائی گئی کہ یہ ایک تاریخی کامیابی رہی جس کا جشن منانا چاہیئے۔ کئی ممالک نے کہا کہ پالیسی ساز عہدوں پر مزید خواتین کو آگے آنا چاہیئے۔ ہم ایسے فیصلوں کے منتظر ہیں اور ہم نے ایک چیز دریافت کی ہے کہ مختلف مسائل جن کا طویل عرصہ سے حل تلاش کیا جارہا ہے اس کی یکسوئی ہوسکے گی۔ اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ 75فیصد خواتین کا اضافہ ہوا ہے جن میں رنگ دار بھی شامل ہیں جو ایوان نمائندگان یا سنیٹ کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ نئے انتخاب سے خواتین کو کانگریس میں 100سے زیادہ مقامات حاصل ہوئے ہیں۔ یہ ایک ریکارڈ ہے۔ بیان کے بموجب ایسے لوگ جو تاریخ رقم کر رہے ہیں ان میں امریکی خواتین ایوان میں اب تک سیٹ نہیں جیتی تھی جو نیومیکسیکو ڈیموکریٹ ڈیب ہالند اور کنساس ڈیموکریٹ شارسی ڈیوڈس شامل ہیں۔ یہ لوگ ایل جی بی ٹی کے کھلے طوپر پہلے کانگریسی ممبر ہیں جن کا کنساس ریاست سے تعلق ہے۔ پہلی مسلم خواتین رشیدہ طالب ڈیموکریٹ اور لیہان عمر ڈیموکریٹ کا تعلق مشیگان اور منی سوٹا سے ہے۔ انہوں نے بھی ایک تاریخ بنائی ہے اور منگل کی شب اپنی کامیابی کا جشن منایا۔ تنیسی ریپبلیکن مارشا بلیک برن ریاست کی پہلی خاتون سنیٹ کیلئے منتخب ہوئی۔ نیویارک کی نوجوان ڈیموکریٹ الیگزنڈریا اوکاسیو۔کورٹیس (29) نے جنرل الیکشن کی دوڑ میں کامیابی حاصل کی۔ اس طرح وہ سب سے کم عمر خاتون بن گئی ہیں جو کیپیٹول ہل سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایانا پریسلی ماساچیوٹس کی پہلی رنگ دار خاتون ریاست کے کانگریسی وفد میں شامل ہوئیں۔ ان تمام باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صنفی مساوات پیدا ہوئے ہیں اور جاری رہنے والی ترقی یقینی ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ ایجنسی نے یہ بات بتائی۔

جواب چھوڑیں