مودی اور رمن سنگھ ‘ صنعتکار دوستوں کی اجازت کے بغیر کچھ بھی نہیں کرتے:راہول گاندھی

وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر چھتیس گڑھ رمن سنگھ پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر راہول گاندھی نے جمعہ کے دن الزام عائد کیا کہ یہ دونوں اپنے صنعتکار دوستوں کی اجازت لئے بغیر کبھی کچھ نہیں کرتے۔ چھتیس گڑھ میں 12 نومبر کے پہلے مرحلہ کی رائے دہی سے چند دن قبل راہول گاندھی نے مودی اور رمن سنگھ پر جھوٹے اور پورے نہ ہونے والے وعدے کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ چھتیس گڑھ کے ضلع کنکر کے پاکھنجوڑ ٹاؤن کے پنڈت شیاما پرساد مکرجی اسٹیڈیم میں انتخابی ریالی سے خطاب میں راہول نے کہا کہ بستر‘ قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن مقامی لوگوں کو اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ مودی جی اور چھتیس گڑھ سی ایم کے چند صنعتی دوستوں کو فیض پہنچتا ہے۔ دہلی میں مودی جی کے 10-15 صنعتکار دوست ہیں۔ اسی طرح چیف منسٹر چھتیس گڑھ کے 10-15 بڑے تاجر دوست ہیں۔ مودی جی اور رمن سنگھ ان 10-15 دوستوں کی اجازت لینے تک کوئی کام نہیں کرتے۔ مرکز میں کانگریس دور میں منریگا چلانے کے لئے ہر سال 35 ہزار کروڑ روپے ملتے تھے۔ اس پراجکٹ نے ملک میں کئی لوگوں کی زندگی بدل دی تھی۔ راہول گاندھی نے رافیل معاملت کے لئے بھی وزیراعظم کو نشانہ تنقید بنایا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ جوہری نیرؤ مودی‘ میہول چوکسی‘ شراب کے تاجر وجئے مالیا اور داغدار کرکٹ اڈمنسٹریٹر للت مودی‘ ملک کا کروڑوں روپیہ لے کر فرار ہوگئے۔ مودی جی اپنی ہر تقریر میں کرپشن کے خلاف بولتے تھے لیکن اب نہیں بولتے۔ وہ کرپشن کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے کیونکہ چوکیدار نے 30 ہزار کروڑ کی چوری کرادی۔ چھتیس گڑھ میں 5 ہزار کرور کا چٹ فنڈ اسکام ہوا ۔یہ کمپنیاں کس نے کھولی تھیں؟۔ یہ لوگ رمن سنگھ کے دوست ہیں۔ پنامہ اسکینڈل میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو تک جیل جانا پڑا لیکن رمن سنگھ کے لڑکے ابھیشیک سنگھ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی حالانکہ ان کا نام بھی پنامہ پیپرس اسکینڈل میں آیا ہے۔

جواب چھوڑیں