ہم نے آر بی آئی سے 3.6 لاکھ کروڑ روپے نہیں مانگے: حکومت

معتمد معاشی امور سبھاش چندر گرگ نے جمعہ کے دن ان خبروں کو خارج کردیا کہ حکومت نے آر بی آئی سے 3.6لاکھ کروڑ روپے مانگے ہیں۔ گرگ نے کہا کہ ایسی کوئی تجویز نہیں۔ ملک کے مالی خسارہ کے نشانے ٹھیک ٹھاک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مارچ میں ختم ہونے والے جاریہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار کا 3.5 فیصد کا بجٹ تفاوت ٹھیک کرلے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں کبھی غلط باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ حکومت کا حساب کتاب ٹھیک ٹھاک ہے۔ ایسی کوئی تجویز نہیں کہ آر بی آئی سے 3.6 لاکھ کروڑ کی رقم مانگی جائے۔ پی ٹی آئی کے بموجب حکومت نے جمعہ کے دن واضح کیا کہ وہ آر بی آئی سے 3.6 لاکھ کروڑ روپے کی رقم نہیں لے رہی ہے۔ معتمد معاشی امور سبھاش چندر گرگ نے ٹویٹ کیا کہ میڈیا میں بہت سی غلط باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ حکومت کا حساب کتاب ٹھیک ٹھاک ہے ۔ آر بی آئی سے 3.6 یا ایک لاکھ کروڑ روپے لینے کی کوئی تجویز نہیں ہے جیسا کہ قیاس لگایا جارہا ہے۔ ایک اور عہدیدار کے بموجب حکومت چاہتی ہے کہ آر بی آئی‘ ڈیویڈنٹس اور کیپٹل ریزرو کے لئے نئی پالیسی بنائے۔ امکان ہے کہ آر بی آئی بورڈ 19 نومبر کو اپنی میٹنگ میں کیپٹل فریم ورک اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کرے گی۔ غور طلب ہے کہ آر بی آئی نے 30 جون 2017کو مختتم سال میں 30659 کروڑ کی فاضل رقم ڈیویڈنٹ کے طورپر حکومت کو دی۔ یہ رقم سال گذشتہ کے مقابلہ کم ہے۔ اس نے سال گذشتہ 65,874 کروڑ کا ڈیویڈنٹ دیا تھا۔

جواب چھوڑیں