ہندوستان‘ افغان طالبان سے کوئی بات چیت نہیں کررہا ہے: وزارت ِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار

ہندوستان نے جمعہ کے دن کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر روس کے زیراہتمام ماسکو میں جس اجلاس کا بڑا چرچہ ہے اس میں حصہ لینے کے فیصلہ کا افغان طالبان سے نئی دہلی کی بات چیت کا کوئی تعلق نہیں۔ وزارت ِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے نئی دہلی میں ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ ہم نے کہاں کہا ہے کہ طالبان سے بات چیت ہوگی؟ ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم نے ایسا نہیں کہا۔ ہم نے صرف یہ کہا ہے کہ ہم افغانستان کی صورتحال پر میٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں جس کی میزبانی روس کررہا ہے۔ ہم نے غیرسرکاری سطح پر حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہ غیرسرکاری ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیوں اور کیسے ہوا‘ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت ہند نے طے کیا کہ ہماری حصہ داری غیرسرکاری سطح پر ہوگی۔ اس سے آگے مجھے کچھ نہیں معلوم کہ اس سطح پر شرکت کا فیصلہ کیوں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل کئی باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس بار حکومت ہند کا سوچا سمجھا فیصلہ رہا کہ ہندوستان کی شرکت غیرسرکاری سطح پر ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیرسرکاری عہدیدار کی اصطلاح خود اپنا مفہوم بیان کرتی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ مجھے اس کی وضاحت کرنی ہوگی۔ غیرسرکاری کی اصطلاح خود اپنا مفہوم بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ رویش کمار نے کہا کہ ہندوستان جنگ زدہ افغانستان میں امن ‘ سلامتی اور استحکام یقینی بنانے کی تمام کوششوں کی تائید کرتا ہے۔ نئی دہلی نے جمعرات کے دن توثیق کی تھی کہ افغانستان کی صورتحال پر روس کی پہل پر جو بات چیت ہورہی ہے اس میں ہندوستان کی شرکت غیرسرکاری سطح پر ہوگی۔ وزارت ِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میٹنگ میں ہماری شرکت غیرسرکاری سطح پر ہوگی۔ ہندوستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ایسی کوششیں افغانستان کرے ۔ اسی کے زیرکنٹرول یہ رہیں اور اس میں حکومت افغانستان کی حصہ داری ہو۔

جواب چھوڑیں