جمال خشوگی کی نعش تیزاب میں تحلیل کردی گئی

سعودی صحافی جمال خشوگی کے قاتلوں نے خشوگی کی نعش کو تیزاب میں تحلیل کرنے کے بعد ان تکڑوں کو ایک نالے میں بہادیا ۔ ترکی ایک موافق حکومت روزنامہ ’’صباح‘‘نے کسی ذرائع کے حوالے کے بغیر یہ اطلاع دی اور بتایا کہ استنبول میں سعودی قونصل خانہ کے احاطہ میں موجود نالے سے نکالے گئے نمونوں سے تیزاب کا پتہ چلاہے ۔ یہ معلوم ہونے کے بعد تحقیقاتی عہدیداروں نے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ مہلوک صحافی کی نعش کو ایک مائع کی طرح نالے کے ذریعہ بہادیاگیا ۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ خشوگی کو آخری مرتبہ گذشتہ 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی خانہ قونصل میں دیکھاگیاتھا جہاں وہ اپنی ہونے والی شادی کے دستاویزات حاصل کرنے گئے تھے ۔ لیکن ان کی نعش نہیں پائی گئی ۔ سعودی عرب نے کئی بار تردید کے بعد بالآخر تسلیم کیاکہ 59 سالہ صحافی کا قتل انقرہ کے سعودی مشن میں ایک ’’رسوا کن ‘‘ عمل کے ذریعہ کیاگیا ۔ تاہم صدر ترکی طیب اردغان نے الزام عائد کیا کہ سعودی حکومت کی ’’ اعلی ترین سطحوں ‘‘نے خشوگی کے قتل کاحکم دیاتھا جبکہ بعض عہدیداروں نے سعودی عرب کے بااثر ولیعہد محمد بن سلمان پر انگشت نمائی کی ہے ۔ مسٹر اردغان کے مشیر یسین اکٹے نے گذشتہ ہفتہ خیال ظاہر کیاتھا کہ ممکن ہے کہ خشوگی کی نعش کو تیزاب میں تحلیل کردیاگیاہو ۔ اسی دورا ن خشوگی کی منگیترخدیجہ (Hatice Cengiz ) (ترکی کی شہری ) نے دو روز قبل ٹوئٹر پر کہاکہ ’’ جمال آپ کی نعش کو تحلیل کئے جانے کے بارے میں سن کر مجھے زبردست صدمہ ہوا ۔ جس کے اظہار کے لیے الفاظ کا خسارہ ہے ۔ اُن لوگوں نے آپ کو ہلاک کیا اور آپ کی نعش کے تکڑے کردیئے ۔مجھے اور آپ کے خاندان کو نماز جنازہ ادا کرنے اور آپ کی خواہش کے مطابق مدینہ شریف میں آپ کو دفن کرنے سے محروم کردیا ۔ ‘‘

جواب چھوڑیں