سری لنکا میں پارلیمنٹ تحلیل‘5جنوری کو انتخابات کاانعقاد

سری لنکا کے صدر میتری پالا سری سینا نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا ہے اور 5 جنوری کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔مسٹر سری سینا نے یہ فیصلہ یونائیٹڈ پیپلز فریڈم الائنس (یوپی ایف اے) اتحاد کی طرف سے جمعہ کو ایوان میں ضروری اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد لیا۔سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن میں مسٹر سری سینا نے جمعہ کو کہا کہ پارلیمنٹ آج آدھی رات سیتحلیل ہو جائے گی اور نئے پارلیمنٹ کی تشکیل 17 جنوری کو کی جائے گی۔مسٹر رانل وکرم سنگھے کی قیادت والی یونائٹیڈ نیشنل پارٹی (یواین پی) نے ٹوئٹر پر اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے فیصلے کا وہ پرزور مخالفت کرتی ہے۔یواین پی نے لوگوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر سری سینا کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یو این پی نے کہا کہ صدر کو وزیر اعظم کی تقرری کرنے کا حق ہے، لیکن اس کے پاس پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یواین پی نے مسٹر وکرم سنگھے کوپارلیمنٹ میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ نے بتایاکہ سری لنکا مائتری پالا سری سینا کی جانب سے پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد وہ سری لنکا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ وائٹ ہاوز نے جزیرہ پر مشتمل ملک کے بیرونی قرض کی صورتحال پر تشویش کااظہار کیاہے ۔ جمعہ کو سری سینا نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرتے ہوئے 5 جنوری کو قبل از وقت انتخابات انعقاد کااعلان کیا ۔ اس سے قبل واضح ہوگیاتھا کہ انہیں ایوا ن میں مطلوبہ تائید حاصل نہیں ہے ۔ سری سینا نے متنازعہ حالات میں راجہ پکشے کاتقرر کیاتھا ۔ذرائع کے مطابق مسٹر سری سینا کے اس فیصلے سے ملک میں موجودہ سیاسی بحران مزید گہراہو گیا ہے۔صدر کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد اب جنوری یا فروری میں نئے پارلیمانی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔سری لنکا میں اقتدار کو لے کر گزشتہ دو ہفتوں سے جاری کشمکش کے بعد صدر کی طرف پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔اس سے قبل 26 اکتوبر کو ایک اہم ڈرامائی سیاسی واقعہ میں مسٹر سری سینا نے وزیر اعظم رانل و?رم سنگھے کو برخاست کرکے سابق صدر مہندا راج پکشے کو وزیر اعظم کے طور پر حلف دلایا تھا جس کے بعد ہی سیسری لنکا میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا. اس کے بعد صدر میتری پالا سری سینا نے پارلیمنٹ سیشن کو 16 نومبر تک نہیں بلائے جانے کا حکم جاری کیا۔

جواب چھوڑیں